.

عراقی افواج نے موصل یونی ورسٹی کا گھیراؤ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ مشترکہ افواج نے موصل یونی ورسٹی پر دھاوا بولنے کی تیاری کے سلسلے میں اس کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ اس سے قبل عراقی مشترکہ افواج نے شہر کے شمال میں متعدد علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

داعش تنظیم موصل یونی ورسٹی کو شہر کے بائیں جانب لڑائی کی کمان کے لیے بطور مرکز استعمال کر رہی تھی۔ تنظیم نے عراقی افواج کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے یونی ورسٹی پر قبضہ برقرار رکھنے کے واسطے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی ہے۔

اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ عراقی افواج نے موصل شہر کے مشرقی حصے کا 80 سے 85 فی صد کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ادھر اسپیشل آپریشنز کے کمانڈر بریگڈیئر جنرل معن السعدی کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز نے موصل کے بائیں جانب کے زیادہ تر علاقوں اور دریائے دجلہ کے کنارے کے علاوہ تین پُلوں کے داخلی راستوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس دوران تنظیم دریا کے دوسرے کنارے پر عراقی فوج کے ممکنہ حملے کے پیشِ نظر دفاع کی تیاری کر رہی ہے۔

اس دوران عراقی انسداد دہشت گردی فورسز کے کمانڈر جنرل طالب شاغاتی نے واضح کیا ہے کہ موصل کے معرکے کے حوالے سے فیصلہ کن مدت کا تعین مشکل کام ہے البتہ توقع ہے کہ اس کے لیے تین ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

دوسری جانب عراقی افواج کی سپورٹ کرنے والے 1700 امریکی مشیروں کے کمانڈر کرنل بریٹ سلویا کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران عراقی افواج کی پیش قدمی کے باوجود موصل کے مغربی حصے میں ابھی تک بڑے معرکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سلویا نے واضح کیا کہ داعش تنظیم نے مشرقی حصے کے مقابلے میں موصل کے مغربی حصے میں زیادہ بڑے دفاعی اقدامات کیے ہیں۔