.

جامعہ موصل پر قبضے کی لڑائی کے دوران میں کیمیائی مواد برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی خصوصی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان جامعہ موصل پر قبضے کے لیے ہفتے کو دوسرے روز بھی خونریز جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور جامعہ کے کیمپس سے ایسا کیمیائی مواد ملا ہے جس کو خطرناک ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

عراق کی انسداد دہشت گردی سروس ( سی ٹی ایس) کے لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ''ابھی جھڑپیں جاری ہیں۔ہم جامعہ میں داخل ہوچکے ہیں اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ،ڈینٹسٹری اور شعبہ نوادرات کو بازیاب کرا لیا گیا ہے''۔

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ''جامعہ کو آیندہ چند گھنٹے میں مکمل طور پر آزاد کرالیا جائے گا''۔ عراق کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ جامعہ موصل پر قبضہ عراقی فورسز کی اہم تزویراتی کامیابی ہوگا۔اس کے بعد وہ دریائے دجلہ کی جانب پیش قدمی کرسکیں گی اور وہاں سے وہ داعش کے زیر قبضہ شہر کے مغربی حصے پر حملوں کا آغاز کرسکیں گی۔

سی ٹی ایس کے ایک اور کمانڈر سامی العریضی کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز کو جامعہ موصل سے ایسے کیمیائی اجزاء ملے ہیں جنھیں داعش نے ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے جون 2014ء میں موصل پر قبضے کے بعد جامعہ موصل سے سائنسی تحقیق میں استعمال ہونے والے جوہری مواد بھی اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

امریکی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق داعش کے جنگجو ماضی میں شام اور عراق میں اپنی متحارب فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرتے رہے ہیں۔داعش نے چند ماہ قبل موصل کے نواح میں مبینہ طور پر کرد فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔