.

عراقی افواج نے موصل کے شمالی ٹاؤن تلکیف کو آزاد کرا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فورسز نے موصل شہر کے شمال میں واقع " تلكيف" ٹاؤن کو داعش تنظیم سے واپس لے کر وہاں سرکاری عمارتوں پر عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔

اس سے قبل فوجی ذرائع نے بتایا تھا کہ مشترکہ عراقی فورسز نے مذکورہ ٹاؤن پر مشرقی اور شمالی جانب سے حملہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں بغداد نے فوجی کمک بھی فراہم کی تھی جس کو نینوی گارڈز کی فورس کی معاونت حاصل رہی۔

نینوی گارڈز کی فورس کے نائب کمانڈر نے "العربیہ" کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کارروائی میں بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی سپورٹ بھی حاصل تھی۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ عراقی فوج کے یونٹوں نے موصل کے بائیں حصے کے بقیہ علاقوں کو واپس لینا شروع کر دیا ہے جن کی تعداد 12 ہے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کے ادارے کے سربراہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ان کی فورسز نے موصل کے بائیں حصے میں اپنا مشن مکمل کر لیا ہے۔

موصل آپریشن اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہونے کے قریب ہے جس میں عراقی فوج موصل کے مغربی حصے میں بڑے معرکے کی تیاری کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ یہاں واقع داعش کے گڑھ سے شدید مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

عراقی فورسز کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہوگی وہ تباہ شدہ پل ہیں جو شہر کے دونوں مشرقی اور مغربی حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ پل اتحادی طیاروں کی بم باری میں پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں جو دریائے دجلہ کے دونوں کناروں کے درمیان داعش کی سپلائی لائن منقطع کرنے کے لیے کیے گئی تھی۔ اس کے علاوہ تنظیم نے خود بھی ان پلوں کی بنیادوں کو تباہ کر دیا تھا تاکہ عراقی فورسز کو مغربی حصے کی جانب پیش قدمی سے روکا جا سکے۔

عراقی افواج کو مغربی حصے میں دشوار ترین معرکے کی توقع ہے جہاں تقریبا 46 علاقے ہیں۔ ان میں پانچ علاقے دریائے دجلہ کے کنارے ہیں۔ عراقی فورسز کے دریائے دجلہ پار کرلینے کی صورت میں مذکورہ پانچوں علاقے داعش تنظیم کے لیے اولین دفاعی لائن ہوں گے۔

رپورٹوں کے مطابق داعش کے دو ہزار سے زیادہ ارکان لڑائی میں شدید نقصان کے بعد مشرقی جانب سے فرار ہو کر مغربی جانب آ گئے تھے۔