.

جماعت اسلامی کو ایرانی انقلاب کی تقریب میں شرکت مہنگی پڑ گئی

بیروت میں ایرانی تقریب میں شرکت پرجماعت اسلامی کو سخت تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی مذہبی سیاسی جماعت اور اخوان المسلمون کی نظریاتی ہم خیال جماعت اسلامی کی دوغلی پالیسی پر جماعت کی قیادت کو سخت عوامی تنقید کا سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جماعت اسلامی کی دوغلی پالیسی حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب جماعت کے رہ نماؤں نے بیروت میں ایرانی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔

بیروت میں ایرانی سفارت خانے میں منعقدہ تقریب میں جماعت اسلامی کی قیادت کی شرکت پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ جماعت اسلامی ایک طرف شام میں عوامی بغاوت کی تحریک کی پر زور حامی رہی ہے اور دوسری طرف وہ شام میں باغیوں کو کلچنے میں بشارالاسد کی مدد کرنے والے ایرانی نظام کی بھی حامی ہے۔

عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ نو فروری کو بیروت میں منعقدہ تقریب میں جماعت کی قیادت نے شرکت کرکے اپنے دوغلے پن کا واضح ثبوت پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے بیروت میں ایرانی انقلاب کی سالگرہ میں شرکت نہیں کی بلکہ شام میں خون کے دریا بہانے میں مدد کرنے والے ایران کی سپورٹ کی ہے۔

جماعت اسلامی کے رہ نماؤں کی بیروت میں ایرانی انقلاب کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت پر سوشل میڈیا پر بھی شدید رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔

عوامی اور سماجی حلقوں کی شدید تنقید کے بعد جماعت اسلامی کو دفاعی پوزیشن میں آنا پڑا ہے۔ جمعہ کے روز جماعت اسلامی لبنان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی سفارت خانے میں منعقدہ تقریب محض پروٹوکول کی معمول کی کارروائی تھی۔ اس کا کوئی سیاسی پہلو ہرگرز نہیں۔ اسے ایران اور شام کے حوالے سے جماعت کے موقف میں تبدیلی پر محمول نہ کیا جائے۔ کیونکہ جماعت شام میں ایران اور حزب اللہ کی مداخلت کی اب بھی کھل کر مداخلت کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کے سماجی اور سفارتی حلقوں کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ بیروت میں ایرانی سفیر نے جماعت کی نئی قیادت کے انتخاب پر نومنتخب قیادت کو مبارک باد بھی پیش کی ہے۔