.

چین اور روس نے شام پر نئی پابندیوں کے لیے قرارداد ویٹو کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام میں نئی پابندیاں عاید کرنے سے متعلق قرارداد ویٹو کردی ہے۔

اس قرارداد کا مسودہ امریکا ،برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا تھا۔ منگل کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں نو ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔تین ممالک بولیویا ،چین اور روس نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ تین غیر مستقل رکن ممالک ایتھوپیا ،قزاقستان اور مصر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے ہیں۔

مغربی ممالک نے یہ قرارداد اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی مشترکہ تحقیقات کے بعد پیش کی تھی۔ان کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ شامی حکومت کلورین گیس کے تین حملوں میں ملوّث پائی گئی ہے۔ داعش کو مسٹرڈ گیس کے ایک حملے کا ذمے دار قراردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شام کے قریبی اتحادی ملک اور صدر بشارالاسد کے سب سے بڑے پشتی بان روس نے مغربی ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کی تھی اور اس ٹیم کو شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کرنے والے فریقوں کے تعیّن کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

لیکن اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر ولادی میر سفرنکوف نے گذشتہ جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس قرارداد کو ویٹو کردے گا۔انھوں نے اس قرارداد کو یک طرفہ ،ناکافی شواہد پر مبنی اور ایک اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی ہیلی نے روسی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’روس کب تک شامی رجیم کو بچانے کے لیے معذرت خواہانہ رویہ جاری رکھے گا جبکہ لوگ دم گھٹنے کے نتیجے میں مر رہے ہیں۔یہ تو سفاکیت ہے‘‘۔

شامی حکومت خانہ جنگی کے دوران میں اپنے مخالفین یا شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تردید کر چکی ہے لیکن تین مغربی ممالک نے اس کے اس موقف کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے ذمے داروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔