موصل کی شاہراہوں پر لاشوں کے انبار ، شہری ملبے تلے دب گئے
عراقی فورسز کا موصل کے مغرب میں واقع دو علاقوں کو آزاد کرانے کا اعلان
عراقی فورسز نے جمعرات کے روز شمالی شہر موصل کے مغرب میں واقع دو اور علاقوں کو آزاد کرانے کا اعلان کیا ہے جبکہ شہر کے مکینوں نے بتایا ہے کہ گلیوں اور بازاروں میں بے گورو کفن لاشیں پڑی ہیں اور لاتعداد شہری جنگ کے نتیجے میں تباہ شدہ مکانوں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
موصل میں داعش کے خلاف جاری ’’ ہم آرہے ہیں نینویٰ‘‘ آپریشن کے کمانڈر عبدالامیر رشید یاراللہ نے بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی فورسز نے دو علاقوں المعلمین اور السایلو کو آزاد کرا لیا ہے۔
عراق کی خصوصی فورسز کے کمانڈر جنرل معن السعدی نے العربیہ نیوز کو بتایا ہے کہ ان کے دستوں نے موصل کے دائیں جانب فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور وہ بڑی تیزی سے نئے علاقوں کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔
قبل ازیں عراقی فورسز نے مغربی موصل میں تزویراتی اہمیت کے حامل اہم مقامات پر قبضے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے بہت سی جگہوں اور موبائل فون کے ٹاورز کو آگ لگا دی ہے۔داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی موصل سے فرار کی خبریں بھی منظرعام پر آئی ہیں۔
دریں اثناء عینی شاہدین نے العربیہ کو بتایا ہے کہ موصل کی گلیوں اور بازاروں میں شہریوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب چکی ہے یا وہ ان عمارتوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق موصل کے علاقے تل الرمان میں پچاس سے زیادہ شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ان شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے عارضی جنگ بندی ہوسکتی ہے۔