عراق میں داعش اپنے زیرتسلط 60% علاقوں سے محروم

’داعش کو موصل میں مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی سرکوبی کے لیے قائم عالمی عسکری اتحاد میں امریکا کے خصوصی ایلچی بریٹ ماک گورک نے کہا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعشی دہشت گردوں کے فرار کا آخری راستہ بھی بند کردیا گیا ہے جس کے بعد شدت پسند گروپ عراق میں مکمل طور پر محصور ہو کر رہ گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر ماک گورک نے کہا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز نے مغربی موصل سے داعشی جنگجوؤں کے فرار کا آکری باب بھی بند کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ شب عراقی فوج کے آرمرڈ بریگیڈ 9 نے شمالی مغربی موصل کے نواحی علاقے بادوش پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں سے گذرنے والے فرار کے تمام راستے بند کردیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب داعش کے تمام جنگجو محصور ہوگئے ہیں۔ اب داعشی جنگجوؤں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں یا وہ لڑتے ہوئے موت کو قبول کریں یا ہتھیار ڈال دیں۔

عالمی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد موصل میں سرگرم داعشی دہشت گردوں کو منتشر کرنا نہیں بلکہ انہیں گرفتار یا ہلاک کرنا ہے۔ عالمی اتحاد کے مطابق عراق کے شہروں موصل اور تل عفر میں داعشی دہشت گردوں کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہے۔

ماک گورک نے کہا کہ عراق میں داعش اپنے زیرقبضہ 60 فی صد رقبے سے محروم ہوچکی ہے۔ موصل سے داعش کا قبضہ ختم ہونے کے بعد دہشت گردوں کے پاس عراق میں چھپنے کا کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں