.

دمشق کی جھڑپیں.. اپوزیشن کا فائربندی کے معاہدے کے سقوط کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن گروپوں نے دمشق کے شمالی داخلی راستے پر اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری فوج اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ایک شدید حملے کو پسپا کردیا۔ ان علاقوں میں کراجات العباسیون کے علاوہ القابون اور جوبر کے علاقوں کے درمیان کے وسیع حصے شامل ہیں۔

ادھر جنوبی محاذ پر جیشِ حُر کے سرکاری ترجمان عصام الریس کا کہنا ہے کہ دمشق کے اطراف اپوزیشن گروپوں کا تزویراتی علاقوں کو واپس لے لینا اس بات کی دلیل ہے کہ بشار کی فوج کمزور ہو کر مکمل طور پر فرقہ وارانہ ملیشیاؤں پر انحصار کر رہی ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق اُس کے گروپوں کے سامنے فائر بندی کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔

جیشِ حُر کے گروپوں کی جانب سے خلاف توقع حملے نے سرکاری فوج کو دمشق کے راستوں کی بندش پر مجبور کر ڈالا۔ اس کے علاوہ شہر میں انٹرنیٹ اور بجلی کی فراہمی بھی منقطع کر دی گئی۔

شامی مسلح اپوزیشن نے اتوار کے روز ایک بڑے حملے کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں وہ دمشق شہر کے پرانے حصے کے قلب کے نزدیک پہنچ گئی۔ سرکاری فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر شدید گولہ باری کی۔

دارالحکومت دمشق کے بیرونی کناروں پر سارا دن گھمسان کی لڑائی جاری رہی۔ اپوزیشن کے مطابق اس کارروائی نے بشار حکومت کے ان دعوؤں کا پول کھول دیا ہے کہ وہ عسکری کنٹرول کی قدرت رکھتی ہے۔

سرکاری فوج کی جانب سے جوبر کے محصور علاقے پر تین سو سے زیادہ راکٹ داغے گئے۔ اس کے علاوہ القابون کے علاقے میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول حصوں پر بھی کئی حملے کیے گئے۔ بشار کی فوج زمینی طور پر ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں کو واپس لینے کے واسطے سر توڑ کوشش میں مصروف ہے۔