حوثیوں نے سعودی فوجی کی ہلاکت کی وڈیو جاری کی مگر...

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی فوج میں سارجنٹ کا عہدہ رکھنے والا منصور الحکمی مملکت کی جنوبی سرحد پر واقع علاقوں میں بہادرانہ کارکردگی کے باعث اپنے ساتھیوں میں معروف ہے۔

کچھ عرصہ قبل یمنی حوثیوں نے اپنے زیر انتظام میڈیا پر جاری کی گئی ایک وڈیو کلپ کے ذریعے سارجنٹ الحکمی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم سر میں شدید زخم آنے کے نتیجے میں ایک آنکھ سے محروم ہوجانے اور جسم کے بائیں جانب حصوں کے مفلوج ہوجانے کے بعد الحکمی کو نئی زندگی ملی ۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے الحکمی نے انکشاف کیا کہ وہ 2009 میں بھی حوثیوں کے خلاف لڑائی میں زخمی ہو چکا ہے جس کی یادیں ابھی تک اس کے ذہن میں محفوظ ہیں۔

الحکمی نے بتایا کہ 7 برس قبل توپ کا گولا پھٹنے سے اس کے پاؤں میں زخم آیا تھا۔ زخمی ہونے کے بعد اللہ رب العزت نے اُسے شادی کے 10 برس ایک بیٹے کی صورت میں پہلی اولاد سے نوازا۔ الحکمی کے دو بچے ہیں بیٹا جواد اور بیٹی جیداء.. اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کے دلوں میں وطن کی محبت گھر کر لے۔

اس جنگ کے بعد الحکمی دین اور وطن کی خدمت کے لیے پھر سے میدان جنگ میں لوٹ آیا جہاں اسے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں اپنی ایک آنکھ سے محروم ہونا پڑا اور جسم کے بائیں جانب نصف حصہ مفلوج بھی ہو گیا۔

الحکمی کا کہنا ہے کہ " وطن نے ہمیں بہت کچھ دیا اگر ہم اپنی جانیں بھی لُٹا دیں تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ہم سب اس کے سپاہی ہیں اور صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اس دیس کے لیے شہادت یا زخمی ہو جانا بہت بڑا اعزاز اور باعث عزت ہے"۔

الحکمی نے مزید بتایا کہ "مملکت کی قیادت اور عوام دونوں کی جانب سے میری مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا گیا۔ مجھے اعلی ترین سطح کا علاج فراہم کیا گیا اور اب میں جرمنی میں اپنا علاج مکمل کرانے کی تیاری کر رہا ہوں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جلد ہی میدان جنگ میں واپس آ کر پھر سے وطن کے لیے شجاعت کا مظاہرہ کروں گا"۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل علاج کے سفر سے لوٹنے پر جازان صوبے کے ضلع صامطہ میں الحکمی کا بھرپور انداز سے عوامی استقبال کیا گیا جس میں اس کے آبائی علاقے کے لوگ اور ساتھی شریک تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں