.

حماس نے اپنے رہ نما کے قتل کے بعد غزہ، اسرائیل سرحد بند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے اپنے ایک لیڈر کے قتل کے بعد اسرائیل کے ساتھ ایک سرحدی گذرگاہ غیر معیّنہ مدت کے لیے بند کردی ہے۔

حماس نے اپنے رہ نما مازن فقہاء کے قتل کا الزام اسرائیل پر عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔غزہ میں حماس کی وزارت داخلہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایریز بارڈر کراسنگ غیر معیّنہ مدت کے لیے بند کی جارہی ہے۔

اسرائیل نے حماس کی جانب سے اس گذرگاہ کی بندش پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کی جانب گذرگاہ بدستور کھلے رہے گی۔اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان صرف ایریز کراسنگ سے ہی لوگوں کی آمد ورفت ہوسکتی ہے جبکہ دوسری گذرگاہ کیرم شالوم اشیاء کی نقل وحمل کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

غزہ کی پٹی میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعے کو مازن فقہاء کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔حماس کے عہدے داروں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر ان کے قتل میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔یادرہے کہ مازن فقہاء سمیت ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل نے 2011ء میں اپنے فوجی گیلاد شالیت کے تبادلے میں رہا کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے مازن کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران سنہ 2000ء سے 2005ء تک بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور انھیں لمبی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ اسرائیل کے زیر قبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ایک سینیر عہدہ دار تھے لیکن وہ اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد غزہ منتقل ہوگئے تھے۔