.

’شاہ عبداللہ نےعرفات کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے امریکا پردباؤ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ اور وائیٹ ہاؤس کے سابق مشیر اور ترجمان جمال ہلال نے بتایا ہے کہ سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کا اسرائیل کے ہاتھوں جاری محاصرہ اس وقت ختم کرانے کی کوشش کی تھی جب عرفات کو رام اللہ میں ان کے ہیڈ کواٹر کے اندر بند کردیا گیا تھا۔ اس وقت شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سعودی عرب کے ولی عہد تھے۔

جمال ہلال نے ان خیالات کا اظہار ’العربیہ‘ کے فلیگ شپ پروگرام ’سیاسی یاداشتیں‘ میں اظہار خیال کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ ولی عہد کی حیثیت سے امریکا کےدورے پرآئے اور سابق صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یاسر عرفات کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے اس پر دباؤ ڈالیں۔

ایک سوال کے جواب میں وائیٹ ہاؤس کے سابق مشیر کاکہنا تھا کہ شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز اپنے ساتھ فلسطینی بچوں کی خصوصی تصاویر بھی ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے بات چیت کے دوران فلسطین کے معاملے بالخصوص فلسیطنی رہ نما یاسر عرفات کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے زور ڈالا۔ جارج بش نے شہزادہ عبداللہ کے مطالبے کو بجا قرار دیا اور تسلیم کیا کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطینی لیڈر سے چاہے کسی معاملے میں اختلاف ہو یا اتفاق کیا جائے مگر ان کا محاصرہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ اس مسئلے کا کوئی حل ضرور نکالا جانا چاہیے۔

جمال ہلال کا کہنا تھا کہ شہزادہ عبداللہ کے قائل کرنے پر جارج بش قائل ہوگئے تھے۔ اگرچہ فلسطین کا مسئلہ اس وقت امریکا اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت کا اہم موضوع نہیں تھا۔ امریکا بھی سعودی عرب کے ساتھ مستحکم تعلقات کے قیام کا خواہاں تھا۔ امریکی حکومت کےعہدیداروں نے تمام سعودی شاہی عہدیداروں سے تعلقات استوار کرنے سے اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران اچانک شہزادہ عبداللہ نے مسئلہ فلسطین کا موضوع چھیڑ دیا۔ انہوں نے امریکی صدر سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یاسرعرفات کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا فلسطینی لیڈر کا محاصرہ ختم کرانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتا تو ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

جمال ہلال کاکہنا ہے کہ شہزادہ عبداللہ کی گفتگو سن کر جارج بش قدرے پریشان ہوئے۔ اس پرمیں نے انہیں بتایا کہ شہزادہ عبداللہ ناراض ہو کر واپس جانا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یاسر عرفات کے معاملے میں کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ میں نے بھی صدر بش پر زور دیا تھا کہ وہ اس حل طلب معاملے پر خصوصی توجہ دیں۔