ایران کی روس کے کندھے پر رکھ کر "خاموش نہ رہنے کی" دھمکی
ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعے کی صبح شامی فضائی اڈے پر 59 کروز میزائلوں کے ذریعے کیے جانے والے امریکی فوجی حملے کے حوالے سے ماسکو اور تہران خاموش نہیں رہیں گے۔
2011 میں شامی انقلاب کی تحریک کے آغاز کے بعد دمشق کا سب سے زیادہ دورہ کرنے والے ایرانی ذمے دار بروجردی کا کہنا ہے کہ بھیانک نتائج اس امریکی حملے کا انتظار کر رہے ہیں۔
بروجردی نے ایرانی پارلیمنٹ کے زیر انتظام ویب سائٹ "خانہِ ملّت" سے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ امریکی حملہ صدر ٹرمپ کے اُن نعروں کے متضاد ہے جو وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران لگاتے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے تقریبا ایک ہفتہ قبل باور کرایا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت کا سقوط اس کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ تاہم ایسا نظر آ رہا ہے کہ خان شیخون پر شامی فوجی طیاروں کے کیمیائی حملے نے بشار کے حوالے سے ٹرمپ کا وژن تبدیل کر دیا ہے۔
ادھر ایران کے سرکاری ٹی وی نے بھی حمص کے قریب "الشعیرات" کے فضائی اڈے کے خلاف امریکی حملے کی خبر پر خاموشی اختیار کی اور محض ایک نیوز ٹیپ پر اکتفا کیا جس میں امریکی افواج کی جانب سے شام کے عسکری ٹھکانوں پر میزائل حملے کی وضاحت کی گئی تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ترجمان بہرام قاسمی کی زبانی امریکی حملے کی مذمت کی۔
واضح رہے کہ امریکی کروز میزائل حملہ بشار کی فوج کی جانب سے خان شیخون میں بے قصور شامی عوام کے خلاف کیمیائی گیس کے حملے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں کم از کم 100 شامی جاں بحق اور 400 کے قریب زخمی ہوئے تھے جن میں بچوں اور خواتین کی کافی تعداد ہے۔