ادلب قتل عام کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں: یو این

کیمیائی حملہ کرنے والوں کا محاسبہ ناگزیر ہے: آنتونیو گٹریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گٹریس نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں خان الشیخون میں کیمیائی حملے میں دسیوں شہریوں کے قتل عام کے ذمہ داروں کو جلد از جلد کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے پوچھا گیا کہ کیا آپ امریکا کی طرف سے شام میں فوجی کارروائی کے امکان پر کسی قسم کا تشویش کا اظہار کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میری توجہ صرف اس بات پرہےکہ خان الشیخون میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کو جلد ازجلد کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ادلب میں کیمیائی حملہ اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی میں غفلت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس حملے کے قصور واروں کو ایسی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسا جرم سزد نہ ہو۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے شام کے لیے انسانی حقوق کے مندوب یان ایگلانڈ نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ نے امریکا، روس اور ایران سے شام میں 72 گھنٹے کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے روس اور امریکا پر شام کے بحران کے سیاسی حل پر بھی زور دیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ جان مارک ایرو نے ایک بیان میں کہا کہ پیرس شام میں ہونے والے قتل عام پر مذمتی قرارداد لانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں کسی بھی فوجی کارروائی کے بجائے بات چیت کو ترجیح ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں