.

سیاسی بحران کو قطر انسانی حقوق کے مسئلے کا رنگ دے رہا ہے: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ قطر پر لازم ہے کہ وہ خطے میں واقع ممالک کے ساتھ مسئلے کے مرکزی پہلو سے نمٹے۔ انہوں نے باور کرایا کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے دوحہ کی سپورٹ نے اس کے مقام کو نقصان پہنچایا۔

قرقاش کے مطابق بحران کا حل بین الاقوامیت یا تُرکیت سے حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ " مسئلے کا حل مظلومیت کے رونے سے یا بین الاقوامیت اور تُرکیت کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ ایک بھائی کے اس احساس کے ذریعے ہوگا کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیے تکلیف کا سبب ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کی سپورٹ سے علاحدگی اختیار کر لی جائے"۔

انور قرقاش نے اتوار کی شب اپنی ٹوئیٹس میں کہا کہ قطر اپنے تصرفات کے سبب پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو محاصرے کا نام دے کر انسانی حقوق کا معاملہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر کی جانب محاصرے کی یہ تشریح کھلی ہوئی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ساتھ میل نہیں کھاتی جہاں طیاروں کا بڑا بیڑہ موجود ہے۔ ان کے نزدیک قطر کا حالیہ بحران کو انسانی حقوق کے مسئلے کا رنگ دینا.. مسئلے کی بنیاد سے فرار اختیار کرنے کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

اماراتی وزیر مملکت کے مطابق "قطر کے برادر ممالک کی جانب سے غصہ اور خود مختارانہ اقدامات اُس سازش پر طویل صبر کے بعد سامنے آئے جس نے ان ممالک کو لپیٹ میں لے لیا۔ لہذا اس بنیاد پر مظلومیت کا پرچار ان ممالک کا حق ہے نا کہ قطر کا"۔

انور قرقاش اپنے سابقہ بیانات میں یہ بات زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ بائیکاٹ کا مقصد دوحہ میں نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ پالیسیوں کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔