.

رہائش کے بحران پر عدم توجہ،اسرائیل کا یہودی بستیوں میں اضافے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں شماریات کے مرکزی دفتر کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں رہائشی یونٹوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران 70% اضافہ ہوا۔

پیر کے روز جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2016 سے اپریل 2017 کے دوران مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں 2758 یونٹوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ اس کے مقابل 2015 سے 2016 کے دوران اسی مدت میں 1619 یونٹوں کی تعمیر کا آغاز ہوا تھا۔

ان اعداد و شمار میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کے رہائشی یونٹ شامل نہیں ہیں۔

اس معلومات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم Peace Now کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں میں گھروں کی تعداد میں اس ضخیم اضافے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے اندر تعمیراتی سیکٹر کی شرح نمو میں 2.5% کی کمی واقع ہوئی ہے۔

تنظیم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اسرائیل میں رہائش کا بحران حل کرنے پر کام کرنے کے بجائے اسرائیل کی سرحد سے باہر رہنے والی اقلیت کو ترجیح دے رہی ہے۔

بنیامین نیتنیاہو کی حکومت کو یہودی آبادکاروں کے رہ نماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ آبادکاروں کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت بستیوں کے منصوبوں میں پیش رفت کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔

اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد 6 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں 4 لاکھ آبادکار مغربی کنارے میں بستے ہیں۔ ان کا وجود مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں 26 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ کشیدگی اور تناؤ کا ذریعہ ہے۔

یہودی بستیوں کی آبادکاری اور قائم بستیوں کی توسیع کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی اراضی کے نئے رقبوں کو ہضم کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی شمار کرتی ہے۔ بہت سے ممالک اس کو فلسطینی اسرائیلی تنازع کے حل تک پہنچنے کی رہا میں مرکزی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود تمام اسرائیلی حکومتوں کے دور میں یہ سلسلہ جاری رہا۔