الرّقہ آپریشن کے بعد بھی "کُرد پیپلز پروٹیکشن" کو مسلح کریں گے: امریکا
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے منگل کے روز کہا ہے کہ الرقہ شہر کو داعش تنظیم سے واپس لیے جانے کے بعد بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا کو شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو ہتھیاروں اور ساز و سامان فراہم کرنے کی ضرورت پڑے۔
ادھر نیٹو اتحاد کا رکن ترکی جو کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو اپنے لیے خطرہ شمار کرتا ہے، اس کے مطابق میٹس اپنے ایک پیغام میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ داعش تنظیم کی ہزیمت کے فوری بعد امریکا کی طرف سے ان کُرد فورسز کو پیش کیا جانے والا اسلحہ واپس لے لیا جائے گا۔
میٹس نے جو طیارے کے ذریعے جرمنی جا رہے تھے، کہا کہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کے جنگجو گزشتہ ماہ امریکا کی جانب سے الرقہ پر حملے کے لیے مزید ساز و سامان فراہم کرنے کے فیصلے سے قبل ہی ہتھیاروں سے بہت اچھی طرح لیس تھے۔
میٹس کے مطابق الرقہ شہر کی واپسی کے بعد بھی شدت پسند تنظیم کے خلاف معرکہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ "کرد یونٹوں سے اسلحہ واپس لیے جانے کا انحصار اگلے مشن پر ہے اس لیے کہ ایسا نہیں ہے کہ الرقہ کے بعد لڑائی اختتام پذیر ہو جائے گی"۔
ترکی کے نزدیک کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹ درحقیقت کردستان لیبر پارٹی کا ہی پھیلاؤ ہے جس نے 80ء کی دہائی سے ترکی کے جنوب مشرق میں بغاوت کا علم بلند کر رکھا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ ان فورسز کو کسی بھی قسم کا اسلحہ فراہم کرنا ترکی کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
تاہم امریکا شام میں داعش تنظیم کے مرکزی اڈے الرقہ شہر میں تنظیم کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے واسطے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو اپنا بنیادی حلیف شمار کرتا ہے۔
جیمز میٹس برسلز میں جمعرات کے روز اپنے ترک ہم منصب فکری اِشیق سے ملاقات کریں گے۔
-
کیمیائی ہتھیار کا استعمال، امریکا کی بشار کو بھاری قیمت چکانے کی دھمکی
امریکی وائیٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کی صبح انکشاف کیا گیا ہے کہ شامی حکومت کی جانب ...
مشرق وسطی -
امریکا بشارالاسد کی فوج کو اشتعال نہ دلائے:لافروف
روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے اپنے امریکی ہم منصب پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں صدر ...
بين الاقوامى -
فضاء میں طیارہ روکنے پر امریکا اور روس میں نئی کشیدگی
امریکی فوج نے کہا ہے کہ روسی جنگی جہاز کی جانب سے بحریک بلٹیک میں پرخطر انداز میں ...
بين الاقوامى