’قطر کی ہٹ دھرمی دہشت گردوں سے تعلقات کی عکاس ہے‘

چار عرب ممالک نے متفقہ طور پر قطری جواب مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے متفقہ طور پرقطرکی طرف سے دہشت گردی کی معاونت کی روک تھام کے مطالبات کا جواب مسترد کردیا ہے۔ چاروں عرب ممالک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ قطر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دوحہ کے دہشت گرد تنظیموں کےساتھ گہرےمراسم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امیر کویت الشیخ صبح الاحمد الجابر الصباح کے توسط سے قطر کی طرف سے ملنے والے جواب پر چاروں عرب ممالک نے قطر کا جواب مسترد کردیا ہے۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ملکوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’قطر کی ہٹ دھرمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دوحہ کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم ہیں ‘ بیان میں خلیجی بحران کے حل کی سفارتی کوششوں کی ناکامی کی تمام ذمہ داری قطر پرعاید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ دوحہ نے برادر ملک کویت کی ثالثی کی مساعی کا بھی احترام نہیں کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے ملک اگلے مرحلے میں قطر کے خلاف مناسب وقت پر مزید سیاسی، اقتصادی اور قانونی اقدامات کریں گے تاکہ خطے کے عوام کے حقوق کا تحفظ، استحکام اور ان ملکوں کے مفادات کے حصول کے ساتھ قطر کی معاندانہ سرگرمیوں کو روکا جاسکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کی طرف سے قطر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کاحصہ بنتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے اور انہیں پناہ دینے کا سلسلہ بند کرے۔ قطر کو اپنا قبلہ درست کرنے کے لیے موقع فراہم کیا گیا مگر اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری حکومت اپنی عوام کے مفادات اور امنگوں کے برعکس کام کررہی ہے۔ قطری قوم خلیجی اور عرب دنیا کا جزو ہے مگردوحہ حکومت کسی اور راستے پر چل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں