.

فلسطینی قوم کو القدس سے محروم کرنے کی اسرائیلی سازش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی اور مشرقی حصوں کو یکجا کرتے ہوئے شہر کے مشرقی حصے کو مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی فلسطینی مساعی کو ناکام بنانے کی سازشیں شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی اور مغربی بیت المقدس کی ’وحدت‘ کے لیے قانون سازی کا سہارا لیتے ہوئے دراصل صہیونی ریاست متحدہ بیت المقدس کو مستقبل میں اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کی طرف گامزن ہے۔

اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کی آئینی کمیٹی نے وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کے تیار کردہ آئینی بل کی منظوری دی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ مستقبل میں القدس کی تقسیم کے لیے پارلیمنٹ کے کم سے کم 80 ارکان کی حمایت ضروری قرار دی جائے۔ اس میں ایک دوسرا قانونی آرٹیکل بھی شامل ہے جس کے تحت القدس کی تقسیم کو صرف 61 ارکان کنیسٹ کی حمایت سے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی حصے پر اسرائیل نے سنہ 1948ء کے دوران قبضہ کیا جب کہ مشرقی حصے پر اسرائیلی تسلط 1967ء کی عرب۔اسرائیل جنگ کے دوران جمایا گیا۔ اسرائیل القدس کے ان دونوں حصوں کو باہم متحد کرتے ہوئے مشرقی بیت المقدس کے بارے میں فلسطینیوں کا خواب چکنا چور کر رہا ہے، جس کے بارے میں آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

وزیر تعلیم نفتالی بینٹ اور ان کی جماعت جیوش ہوم کی سربراہ شولی معلم کی طرف سے پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کردہ بل کی باقاعدہ منظوری کے لیے چار بار رائے شماری کی جائے گی۔ اگر یہ قانون منظور ہوجاتا ہے تو اسرائیلی قانون سازوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کے متوازی ایک عمومی ریفرنڈم کا قانون بھی موجود ہے جو القدس سمیت اسرائیل کے زیرانتظام علاقوں کے بارے میں یہ تعین کرے گا کہ آیا انہیں اسرائیل کے پاس رہنا ہے یا فلسطینیوں کے حوالے کیا جانا ہے۔

اگر القدس کے کچھ علاقے فلسطینیوں کے حوالے کیے جانا ہیں تو نئے قانون کے تحت اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کے 80 ارکان کی حمایت ضروری ہو گی جب کہ موجودہ قانون کے تحت 61 ارکان کی حمایت کافی ہے۔

جیوش ہوم کے لیڈر اور وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے دور میں القدس دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوتے بچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر القدس تقسیم ہو جاتا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوتا۔ یہ مسودہ قانون مستقبل میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں القدس کی تقسیم کو روک دے گا۔

فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقی بیت المقدس سے دست بردار نہ ہونے کی اسرائیلی کوششیں اور القدس کو یکجا کرنے کے لیے قانون سازی تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوششوں سے فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے‘۔