.

لبنان:عرسال کی جانب فرار ہونے والے دہشت گرد فوج کے نشانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سرکاری فوج نے عرسال کی جانب فرار ہونے والے دہشت گرد گروپوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

اس سے قبل لبنانی فوج نے جمعے کی صبح عرسال قصبے میں اپنے ہائی الرٹ رہنے کی سطح بلند کرنے کا اعلان کیا تھا تا کہ بھاگ کر آنے والے جنگجوؤں کو دراندازی سے روکا جا سکے۔

اس سے قبل قومی خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ مشرقی پہاڑی سلسلے کی طرف سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا النصرہ فرنٹ کے ٹھکانوں کی جانب زمینی حملے کا آغاز صبح سویرے ہوا۔ یہ پیش رفت توپ خانے کی گولہ باری اور شامی حکومت کے طیاروں کے فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی۔

بشار حکومت کے جنگی طیاروں نے عرسال کے نواح میں النصرہ کے ٹھکانوں پر مسلسل 15 حملے کیے۔ دیگر ذرائع کے مطابق لبنانی فوج نے عرسال قصبے اور اس کے نواحی علاقوں کے درمیان گزر گاہوں پر نگرانی کو سخت کر دیا ہے تا کہ جنگجوؤں کو قصبے میں گھسنے سے روکا جا سکے۔

لبنانی فوج البقاع کے علاقے مں بھی سکیورٹی منصوبے پر عمل درامد کر رہی ہے۔

دوسری جانب بے گھر افراد کے کیمپوں کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ وہ کیمپوں پر لبنانی پرچم لہرائیں گے جس سے لبنانی فوج کے لیے ان کی حمایت اور تائید کا اظہار ہو سکے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا بشار کی فوج کی سپورٹ سے پیش قدمی کر رہی ہے۔ البتہ لبنانی فوج نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور اس کی ذمے داری دفاعی نوعیت کی ہو گی تا کہ داعش اور النصرہ فرنٹ کو عرسال قصبے کی جانب پیش قدمی سے روکا جائے۔

"الحدث" نیوز چینل کے مطابق لبنانی فوج اقوام متحدہ کے مندوبین کی نگرانی میں بے گھر افراد کے عرسال کے نواحی علاقوں سے گزرنے کے عمل کو آسان بنا رہی ہے۔