.

ایران اور عراق کے درمیان دفاعی معاہدے پر نئے خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ عراق اور ایران نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دو طرفہ فوجی تعاون کا ایک نیا معاہدہ کیا ہے جس پر خطے میں نئے خدشات کا اظہار بالخصوص امریکا کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے وزیر دفاع حسین دھقان اور ان کے عراقی ہم منصب عرفان الحیالی کے درمیان طے پائے معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔ اس معاہدے میں بارڈ سیکیورٹی میں باہمی تعاون، لاجسٹک سپورٹ اور ملٹری ٹریننگ بھی شامل ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور بغداد کے درمیان طے پایا دفاعی معاہدہ ہمہ جہت ہے جس میں دو طرفہ فوجی تعاون، انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کےحوالے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنا، بارڈر سیکیورٹی کو یقینی بنانا، فوجی تربیت، لاجسٹک، ٹیکنیکل معاونت اور فوجی تعاون کی دیگر شقیں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ عراق اور ایران کےدرمیان تعلقات میں بہتری سنہ 2003ء میں امریکا کے ہاتھوں عراق میں صدام حسین کا تختہ الٹے جانے اور بغداد میں ایران نواز حکومت کے قیام کے بعد آئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام، یمن اور عراق میں ایران کے بڑھتے اثرو نفوذ بالخصوص ان ملکوں میں سرگرم شیعہ جنگجو گروپوں کے ساتھ تہران کے گہرے مراسم پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

خطے میں کشیدگی اور دہشت گردی کی حمایت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجوہات ہیں۔ امریکی حکومت اور ٹرمپ انتظامیہ نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران خطے کے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مداخلت کا مرتکب ہے۔

صدر ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران عراق میں شدت پسند جنگجو گروپوں کی معاونت کرکے عراق میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔