.

ہمارے بغیر بشارالاسد کے اقتدار کا تختہ الٹ چکا ہوتا: الحشد الشعبی

ملیشیا عراق کے مغربی صوبے الانبار میں سرحد پر کنٹرول کے لیے فوج سے محاذ آراء ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی الحشد الشعبی ملیشیا کے ترجمان احمد الاسدی نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی رجیم کو اگر ان کی حمایت حاصل نہ ہوتی اور وہ شامی فوج کے شانہ بشانہ نہ لڑ رہی ہوتی تو بشارالاسد ان کے بہ قول دہشت گردوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوچکے ہوتے۔

انھوں نے کہا ہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا اب بھی عراق اور شام میں لڑرہی ہے ۔ وہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں فوج کے خلاف محاذ آراء ہےاور وہ شام کے ساتھ سرحد پر کنٹرول کی خواہاں ہے۔

ترجمان نے داعش کے خلاف شمالی شہر تلعفر میں جنگ میں شرکت پر ترکی کے انتباہ کو بھی مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی ملیشیا وہاں جنگ میں شریک ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوّے فی صد دھڑے تلعفر کی جنگ میں شریک ہوں گے اور ہم اس جنگ کے اعلان کے منتظر ہیں۔