.

حزب اللہ کا داعش سے سمجھوتہ، لبنانی حکومت نظر انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں قائم ایران کی پروردہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے شام اور لبنان کے سرحدی علاقے دیر الزور میں دہشت گرد گروپ ’داعش‘ کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت داعشی جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ داعش کے ساتھ معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ لبنانی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ اس نے اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے، جسے بائی پاس کرتے ہوئے وہ مرضی کے فیصلے کررہی ہے۔

العربیہ چینل کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے داعش سے مذاکرات کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش سے بات چیت کا مقصد اپنے مقاصد حاصل کرنا ہے۔ حسن نصراللہ کا داعش کے بارے میں طرز عمل لبنانی حکومت اور خطے کی دوسری قوتوں کی پالیسی کے مغائر ہے۔ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ داعش سے بات چیت کا مقصد اسے دیر الزور سے نکلنے کا محفوظ راستہ دینا اور لبنانی فوجیوں کو ان کے خاندانوں سے ملانا ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے داعش سے مذاکرات اور دیر الزور میں اس کے جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کی پالیسی ایک ایسے وقت میں اپنائی گئی ہے جب دوسری طرح لبنان کےاندر سرکاری فوج داعش کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کررہی ہے۔ لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں داعش کو کچلنے اور اس کے ہاتھوں یرغمال فوجیوں کو بازیاب کرانے تک آپریشن جاری رکھے گی۔

ملک کی مشرقی سرحد پر جرود القاع اور راس بعلبک میں لبنانی فوج کا داعش کے خلاف آپریشن اور دیر الزور میں اسدی فوج اور حزب اللہ کا داعش کے ساتھ تعاون دو الگ الگ پالیسیاں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے داعش کےساتھ سمجھوتہ اس کی عسکری قوت کی کمزوری کا آئینہ دار ہے۔ حزب اللہ اپنا عسکری اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے داعش کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مشرقی شام کے دیر الزور شہر میں اور مغربی القلمون میں داعش کو محفوظ راستہ دینے کا معاہدہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل لبنانی سیکیورٹی فورسز نے شام کے سرحدی علاقے جرود القاع اور راس بعلبک میں داعش اور النصرہ فرنٹ کےعسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں فوج کو نہ تو حزب اللہ کا تعاون حاصل ہے اور نہ شام میں اسدی فوج کی طرف سےتعاون فراہم کیا گیا ہے۔