.

ایران کی قلابازی: داعش سے نہیں، 'انسانی تنظیم' سے معاہدہ کیا

داعش کا قافلہ دو حصوں میں تقسیم، ایک تدمر کی جانب گامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے لبنانی حزب اللہ اور انتہا پسند تنظیم داعش کے درمیان معاہدے کو 'انسانی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ عام شہریوں اور معصوم افراد کے قتل سے قطعی مختلف چیز ہے۔'

سرکاری خبر رساں ایجنسی [ایرنا] کی جانب جاری کردہ ایرانی ترجمان قاسمی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حمص کے مضافات اور دیر الزور کے درمیان شامی صحرا میں بچوں اور خواتین پر مشتمل قافلے کا امریکی لڑاکا طیاروں کی جانب سے محاصرہ کسے بڑے انسانی المیئے کو جنم دے سکتا ہے جس سے علاقے میں بڑے پیمانے تشدد پھوٹ سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام فوجی فائدہ نہیں ہو گا۔

ایرانی عہدیدار نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقے میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لئے مداخلت کرے۔ ان کے بقول شام، لبنان، عراق اور ایران کی حکومتوں کی جانب سے جاری مزاحمت کی برکت سے داعش مکمل پسپائی اختیار کر رہی ہے۔

ادھر دوسری جانب شام اور لبنان کے سرحدی علاقے سے جنگ بندی سمجھوتے کے تحت آنے والے داعش کے جنگجوؤں کا قافلہ اتوار کے روز دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔قافلے میں شامل بعض بسیں صحرا ہی میں موجود ہیں اور بعض شامی حکومت کے عمل داری والے علاقے کی جانب روانہ ہوگئی ہیں۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ قافلے میں شامل ایک گروپ صوبے دیر الزور میں واقع سرحدی قصبے البوکمال سے شمال مغرب میں کھلے صحرا میں موجود ہے اور دوسرا گروپ تاریخی شہر تدمر ( پلمائرا) کی جانب روانہ ہوگیا ہے‘‘۔

حزب اللہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ چھے بسیں بہ حفاظت شامی حکومت کے عمل داری والے علاقے سے نکل گئی تھیں اور اب ان کی حفاظت اس کی یا شامی حکومت کی ذمے داری نہیں رہی ہیں۔

لبنانی ملیشیا نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ صحرا میں موجود بسوں میں ضعیف العمر افراد ، حاملہ خواتین اور زخمی سوار ہیں۔اس نے امریکا پر قافلے تک انسانی امداد کو پہنچنے سے روکنے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد یہ کہہ چکا ہے کہ اس قافلے کی نگرانی جاری رکھی جائے گی اور اس کو کسی بھی قیمت پر داعش کے زیر قبضہ علاقے میں داخل ہونے سے روکا جائے گا لیکن اس کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ اس میں شہری بھی سفر کررہے ہیں۔اس نے روس سے شامی حکومت کو یہ اطلاع دینے کے لیے کہا تھا کہ اس قافلے کو مشرق میں عراق کی سرحد کی جانب جانے سے روکا جائے گا۔

امریکی اتحاد نے گذشتہ روز قافلے کے نزدیک داعش کی کم سے کم چالیس گاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ان میں ایک ٹینک ،توپ خانے کا نظام ،بکتر بند گاڑیاں اور ٹرانسپورٹ گاڑیاں شامل تھیں۔یہ گاڑیاں قافلے کی مدد کو آئی تھیں تاکہ اس کو داعش کے زیر قبضہ علاقے کی جانب لے جایا جاسکے۔

لبنان اور شام کے درمیان سرحدی علاقے وادی قلمون سے آنے والا داعش کا یہ قافلہ سترہ بسوں پر مشتمل ہے اور ان پر داعش کے قریباً تین سو نیم مسلح جنگجواور تین سو شہری سوار ہیں۔یہ گذشتہ منگل سے شام کے مشرق میں واقع صحرائی علاقے میں پھنس کر رہ گیا ہے کیونکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے اس کوروکنے کے لیے شاہراہوں اور پلوں کو بمباری کرکے تباہ کررہے ہیں۔