کردستان ریفرنڈم غیر آئینی ہے ، کوئی سنجیدہ نتیجہ نہیں نکلے گا : حیدر العبادی
عراقی وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اربیل حکومت نے ریفرنڈم کے نتائج مسلط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور ریفرنڈم کے نتائج سے پھیلنے والی انارکی سے بقیہ قومیتوں کو نقصان پہنچا تو کردستان ریجن کے خلاف عسکری مداخلت عمل میں آئے گی۔
العبادی نے خود مختاری کے حوالے سے منعقد کیے جانے والے ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دیا۔
عراقی وزیر اعظم نے باور کرایا کہ بغداد اس ریفرنڈم کے نتائج کو ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ ہے.. ریفرنڈم کے نتیجے میں کوئی ایسی چیز نہ ہو گی جس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ ریفرنڈم واضح طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں خود کُردوں میں اس حوالے سے اختلاف پایا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک بُری بلکہ انتہائی بُری حرکت ہے"۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے کردستان کے صدر مسعود بارزانی کو ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت 25 ستمبر کو مقررہ آئندہ ریفرنڈم روک دیا جائے تو اس کے مقابل 3 سال کے اندر ایک معاہدے تک پہنچنے میں مدد کی جائے گی۔
تجویز میں بغداد اور اربیل حکومتوں سے تقاضہ کیا گیا ہے کہ باقاعدگی کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات شروع کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جانبین پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذاکرات ایک سے تین سال کے اندر مکمل کر لیں۔
دستاویز کے مطابق فریقین اقوام متحدہ سے مدد طلب کر سکتے ہیں تا کہ وہ مذاکرات کے عمل میں یا بات چیت کے نتائج کو نافذ العمل کرنے کے سلسلے میں اپنی مساعی پیش کرے۔
-
کردستان میں ریفرنڈم قومی سلامتی کا مسئلہ ہے:ترکی
ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی عراق کے ...
مشرق وسطی -
کردستان کا آزادی کے لیے ریفرنڈم اشتعال انگیزی ہوگی: امریکا
امریکی حکومت نے عراق کے علاحدگی کے لیے پر تولنے والے صوبہ کردستان کی قیادت پر زور ...
مشرق وسطی -
کردستان کا علاحدگی کے بجائے متبادل آپشنز پرغور
عالمی دباؤ کے بعد کرد پارلیمان کا اجلاس موخر
مشرق وسطی