شام میں حلب کے بعد بدترین لڑائی ،شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ : ریڈ کراس
بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی ( آئی سی آر سی )نے کہا ہے کہ شام کے مختلف علاقوں میں اس وقت سرکاری فوج اور باغی گروپوں کے درمیان بدترین لڑائی ہورہی ہے اور اس میں سیکڑوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ یہ گذشتہ سال شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے میں باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان لڑی گئی جنگ سے بھی بد ترین ہے۔
ریڈکراس نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ دس روز میں لڑائی کے دوران شام کے مختلف علاقوں میں دس اسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے اور سیکڑوں، ہزاروں افراد وہاں حفظانِ صحت کی سہولتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔اس امدادی ایجنسی نے خاص طور پر مشرقی شہر الرقہ ، شمال مغربی صوبے ادلب اور مشرقی الغوطہ کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آئی سی آر سی کے شام میں وفد کی سربراہ میریان گیسر نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران میں فوجی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے اور ان کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے‘‘۔
انھوں نے کہا:’’ (شام میں موجود ) میرے ساتھی خوف ناک کہانیاں بیان کررہے ہیں۔ان میں دیر الزور سے تعلق رکھنے والے تیرہ افراد پر مشتمل ایک خاندان کی بھی درد ناک کہانی ہے۔یہ خاندان اپنے شہر سے جانیں بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ کر بھاگا تھا لیکن اس کے دس ارکان کسی محفوظ مقام کی جانب جاتے ہوئے راستے ہی میں فضائی حملوں یا بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں مارے گئے ہیں‘‘۔