اوباما نےالقاعدہ کی ایران وقطرسےتعلقات کی دستاویزات کیوں مخفی رکھیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی خفیہ آپریشن کے بعد پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں قائم بن لادن کے مبینہ ٹھکانے سے ملنے والی معلومات بالخصوص تنظیم کے قطر اور ایران سے روابط بارے دستاویزات کو چھپانے کے اسباب واضح تھے۔

ان خیالات کا اظہار ’دفاع جمہوریت‘ انسٹیٹٰیوٹ کے بانی سربراہ کلیفورڈ مائی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیے ہیں۔

مسٹرکلیفورڈ نے اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ دفاع جمہوریت سے وابستہ ماہرین اور کئی دوسرے تھینک ٹینک ماضی میں حکومت سے بن لادن دستاویزات کو منظرعام پر لانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ان سب کی خواہش تھی کہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے ملنے تمام دستاویزات صحافیوں اور محققین، پالیسی سازوں اور رائے عامہ ہموار کرنے والے اداروں کے سامنے لائی جائیں۔

کلیفورڈ مائی کا کہنا ہےکہ قطری ٹی وی پرجب اسامہ بن لادن کی یاداشتیں نشر کی گئیں تو القاعدہ سربراہ نے اس کی تحسین کی تھی۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا تھا کہ عالمی جہاد کی طرف رغبت انہیں اخوان المسلمون کی تعلیمات سے ملی ہے اور اخوان ہی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔

امریکی دانشور کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جاری کی گئی القاعدہ اور ایران کے درمیان 19 صفحات پر مبنی تفصیلات کافی اہم ہیں۔ ان دستاویزات میں القاعدہ کے ایک سینیر عہدیدار کا بیان بھی شامل ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ایران نے القاعدہ کو ضرورت کی ہر چیز مہیا کی‘۔ پاسپورٹ جاری کیے، رقوم مہیا کیں، اسلحہ دیا، حتیٰ کہ لبنان میں حزب اللہ کے تربیتی کیمپوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو تربیت بھی فراہم کی۔

القاعدہ جنگجو کا دعویٰ ہے کہ ایران نے سعودی عرب، خلیجی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پرحملوں کے بدلے القاعدہ جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کیں۔

ایران اور القاعدہ کے درمیان باہمی تعلق کی ایک دستاویز ذاتی طور پربن لادن کی تسلیم کرتے ہیں کہ سنہ 2007ء میں ایران القاعدہ جنگجوؤں کے باہمی رابطے، افراد اور رقوم کے حصول کی شہ رگ بن چکا تھا۔

کلیفورڈ مائی کا کہنا ہے کہ ایران اور القاعدہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں تاہم دونوں میں مقابلہ تھا۔ وہ مقابلہ بھی کرتے اور بعض مقامات پر ایک دوسرے سے الجھ جاتے۔ دونوں کے درمیان گہرے مذہبی اختلافات بھی تھے۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس چیف مائیک پومپیو نے بن لادن کی 4 لاکھ 70 ہزار دستاویزات میں سے دستاویزات کی کانگریس سے اشاعت کی اجازت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی معاونت سے ان دستاویزات کی اشاعت کے لیے بہت دوڑ دھوپ کی ہے جس کے بعد حال ہی میں بعض دستاویزات عام کی گئی ہیں۔

القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات اور باہمی تعاون سے متعلق دستاویزات کی اشاعت پر ایران سخت برہم ہے۔ تاہم کلیفورڈ مائی نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جواد ظریف کئی سال تک امریکا میں ایرانی لابی کے ساتھ مل کر القاعدہ اور ایران کے باہمی تعلقات کی دستاویزات منظرعام پر لانے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں