.

شمالی سیناء میں مسجد میں قتلِ عام کاسختی سے جواب دیں گے: صدر السیسی

اس طرح کے واقعات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ شمالی سیناء میں مسجد میں دہشت گردی کے واقعے کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ حکومت کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششوں کا حقیقی عکاس ہے۔

شمالی سیناءمیں واقع اس مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت تباہ کن بم دھماکے اور دہشت گردوں کی فائرنگ سے 235 افراد جاں بحق اور 110 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔اس شورش زدہ علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران میں کسی ایک واقعے میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔ابھی تک کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

صدر السیسی نے جمعہ کی شب ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’ مصر دنیا کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔جو کچھ رونما ہوا ہے ،اس کا اصل مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہماری کوششوں کو روکنا ہے۔ہمارے عزم کو تباہ اور مصریوں کے اعتماد کو متزلزل کرنا ہے لیکن ہم پختہ ہمت ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے ہمارے ایک پورے علاقے کو تباہ کرنے کی سازش تیار کی ہے لیکن اس طرح کے تشدد اور دہشت گردی سے ہمارے عزم میں اضافہ ہوگا اور اس دہشت گردی کا سفاکانہ ریاستی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

انھوں نے مصریوں پر زوردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے مقابلے میں متحد رہیں۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے اس حملے کے ذمے داروں سے انتقام لیا جائے گا اور ملک میں سکیورٹی اور استحکام کو بحال کیا جائے گا۔

مصری صدر نے حکومت کو بم دھماکے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کو دو لاکھ مصری پاونڈز فی کس اور ہر زخمی کو پچاس ،پچاس ہزار پاؤنڈز دینے کی ہدایت کی ہے۔