.

شام : داعش اپنے حریف جنگجوؤں سے لڑائی کے بعد دوبارہ ادلب میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں داعش کے جنگجو ؤں نے اپنے مخالفین سے لڑائی کے بعد ایک علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔داعش کو اس علاقے سے چار سال قبل دوسرے مزاحمتی اور جہادی گروپوں نے لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے القاعدہ سے ماضی میں وابستہ گروپ ہیئت تحریر الشام سے لڑائی کے بعد ایک گاؤں باشکن پر دوبارہ قبضہ کیا ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ داعش نے حالیہ دنوں میں پڑوس میں واقعے صوبے حماہ میں اسی گروپ کے ساتھ جھڑپوں کے بعد متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے ۔یہ تمام دیہات صوبے کے شمال مشرقی علاقے میں واقع ہیں۔

داعش کو حالیہ مہینوں کے دوران میں عراق کے شمالی علاقوں اور شام میں سرکاری افواج اور ان کی اتحادی فورسز کے مقابلے میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے الرقہ اور موصل سمیت متعدد بڑے شہروں کا قبضہ واپس لے لیا گیا ہے۔ اب اس کی نام نہاد ’’خلافت‘‘ سکڑ کررہ گئی ہے اور اب اس کا شام کے چند ایک علاقوں ہی پر قبضہ برقرار رہ گیا ہے۔

ادھر عراق میں وزیراعظم حیدر العبادی نے آج ہفتے کے روز ہی داعش کے خلاف جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یادرہے کہ شام میں مارچ 2011ء کے بعد جاری کثیر الجہت جنگ میں تین لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں ، لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں اور ملک کی کم وبیش نصف آبادی در بدر ہوچکی ہے۔