.

بن لادن اور سعودی معاند برطانوی صحافی کے بیچ مشکوک گُتّھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے دستاویزات کے ذریعے القاعدہ تنظیم اور اس کے سربراہ کے سربرستہ راز منظر عام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے گیارہ ستمبر کے حملوں کی 10 ویں برسی کے موقع پر بائیں بازو کے حلقوں سے تعلق رکھنے والے برطانوی صحافی روبرٹ فِسک کا ایک مضمون کا بھی ذکر سامنے آتا ہے جو انہوں نے اسامہ بن لادن کے متعین کردہ رجحانات کے مطابق تحریر کیا تھا۔

برطانوی اخبار "دی انڈی پنڈنٹ" نے جمعہ 2 ستمبر 2011 کو روبرٹ فِسک کا 1000 سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا :

(For 10 years, we've lied to ourselves to avoid asking the one real question).

فسک نے دعوی کیا کہ ان کا مضمون گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے رازوں کے حوالے سے دنیا بھر میں شائع ہونے والی بعض کتب ، مضامین اور رپورٹوں پر تبصرے کے طور پر لکھا گیا ہے۔

اسامہ بن لادن کی جانب سے القاعدہ کی قیادت کو تحریر کیے گئے ایک خط میں کہا گیا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کی دسویں برسی کے قریب آ رہی ہے لہذا وہ روبرٹ فسک اور عرب صحافی عبدالباری عطوان سے رابطہ کریں۔ یہ ایک اچھا موقع ہو گا کہ القاعدہ تنظیم کی جانب سے جاری جنگ کے حقیقی اسباب اور عوامل کو واضح کیا جائے۔

بن لادن کے خط میں ابتر ماحولیاتی مسائل پر توجہ دینے کی ترغیب دی گئی۔ انہوں نے رابرٹ فسک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مستحقین کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے جنگ کا جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ دنیا انسانیت کو بچانے، ماحولیاتی تباہ کاریوں اور زہریلی گیسوں سے انسان کو نجات دلانے کے لیے کام کرے۔ ورنہ القاعدہ کے سامنے جنگ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ بن لادن کے بہ قول یہ جنگ دو تہذیبوں کے درمیان تصادم ہے۔

بن لادن کے مطابق "فسک اور عطوان کو آگاہ کرنا چاہیے کہ ان کا کردار اخبارات میں معلومات نقل کرنے سے زیادہ بڑا ہے۔ ہماری تجویز ہے کہ اس دسویں برسی کے موقع پر یہ لوگ ایک دستاویزی فلم تیار کریں۔ اس حوالے سے ہم تمام تحریری ، سمعی اور بصری معلومات فراہم کریں گے۔ اس فلم کا مقصد اس بات پر روشنی ڈالنا ہے کہ امریکا کو درپیش مالیاتی بحران کا مرکزی سبب مجاہدین ہیں"۔

ایسا نظر آتا ہے کہ 2 ستمبر2011 کو دی انڈی پنڈنٹ میں شائع ہونے والا روبرٹ فسک کا مضمون بن لادن کے خط میں موجود مطالبات اور تجاویز کے مثبت جواب کے طور پر سامنے آیا۔ فسک نے مضمون میں کہا کہ "جنگ کے دس برسوں بعد بھی لاکھوں بے قصور افراد کی ہلاکت، جھوٹ ، نفاق ، غداری اور تشدد کا سلسلہ کیوں جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے مرتکب افراد مشرق وسطی سے آئے تھے، سوال یہ ہے کہ اس خطے میں مسئلہ کیا ہے ؟

فسک نے مضمون کے اختتام میں کہا کہ "ہم نے اس جرم کے بارے میں ابھی تک حقیقت نہیں بتائی۔ میں نے مئی میں جب اوباما کو نیتنیاہو کے سامنے اپنے گھٹنوں پر جھکے دیکھا تو مجھے حیرت نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ جب اسرائیلی وزیراعظم امریکی کانگریس کو بھی اپنے سامنے بِچھ جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ گویا کہ امریکی عوام 11 ستمبر سے زیادہ حساس اور اہمیت کے حامل سوالات کا جواب حاصل نہیں کر سکیں گے۔۔ مگر کیوں ؟"

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اسامہ بن لادن روبرٹ فسک کی تحریر کردہ کتابوں اور مضامین کو پڑھنے کی بے پناہ خواہش رکھتے تھے۔ فسک نے اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ "اسامہ بن لادن چند ماہ سے ہمیں اپنی تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی وجوہات اور اسباب سے آگاہ کر رہے تھے۔ بن لادن کے مطابق کوئی یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ سویڈن کو حملوں کا نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا؟"۔

فسک نے مزید لکھا کہ "اس خطے کے مسلمان غالبا حقیقی جمہوریت کے خواہش مند ہیں۔ وہ ہمارے مغرب میں رائج انسانی حقوق سے مستفید ہونا پسند کرتے ہیں۔ تاہم ساتھ ہی وہ ایک دوسری نوعیت کی آزادی بھی چاہتے ہیں اور وہ ہے ہم سے آزاد ہونا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس دوسری نوعیت کی آزادی ہم انہیں ہر گز ہیں دیں گے۔ اسی لیے جنگ کے علاوہ آڈیو ٹیپس اور دھمکویں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا"۔

اسامہ بن لادن اپنے دل میں سعودی عرب کے معاند اس برطانوی صحافی کے لیے تعریفی جذبات رکھتے تھے۔ فسک نے اپنے ایک مضمون میں یہ سوال بھی پیش کیا تھا کہ "کیا یہ ممکن ہے کہ طاقت ور ایران خلیج میں امریکا کا تھانے دار بن جائے؟"

فسک کا یہ بھی کہنا تھا کہ "ایران اپنی جوہری خواہشات پر روک لگانے پر آمادہ ہو کر مشرقِ وسطی میں ایک قوت کے طور پر نمایاں ہو گا۔ اگرچہ ایرانی پاسداران انقلاب اس معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں یا اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے تاہم ایران نے جو ابتدائی معاہدہ کیا ہے وہ اسے خطے میں ایک عظیم طاقت بنا سکتا ہے جیسا کہ شاہ ایران کے زمانے میں تھا"۔

فسک کے مطابق ایسی صورت میں امریکا سعودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا پھرسے جائزہ لے گا"۔