شام میں حمیمیم اور طرطوس کے فوجی اڈّوں پر موجود روسی اسلحہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس نے شام میں اپنے عسکری وجود کو مستقل بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد شامی اراضی پر اپنی افواج کی موجودگی کو مضبوط بنانا اور بحیرہ روم میں اپنے بیڑے کی صلاحیتوں میں توسیع کرنا ہے۔

اس سلسلے میں ماسکو طرطوس کے بحری اڈّے کی توسیع کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس وقت یہ بحری اڈہ 11 سے زیادہ جنگی بحری جہازوں کی گنجائش رکھتا ہے جن میں کیلیبر میزائل سے لیس بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

یہاں ایس-300 دفاعی نظام اور فضائیہ کا گروپ بھی سرگرم ہے اور جلد ہی یہاں آبدوز شکن میزائل بھی نصب کر دیے جائیں گے۔

جہاں تک حمیمیم کے فضائی اڈے کا تعلق ہے تو روس نے 2015 میں یہاں کے لیے تقریبا پچاس لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر مختص کر دیے تھے۔

اگست میں اس اڈّے کو وسیع کیا گیا تا کہ یہاں بڑے طیارے بھی اتر سکیں۔

اب اس اڈَّے پر اینٹونوف جیسے بڑے جہاز بھی اترتے ہیں جن کے اندر ٹینکوں ، توپ خانوں اور اے این – 124 طیاروں کو منتقل کرنے کی گنجائش بھی ہوتی ہے۔

اس اڈّے پر لڑاکا طیارے ، سوخوی اور مِگ جنگی طیارے ، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور جاسوس طیارے بھی موجود ہیں۔

حمیمیم کے اڈّے میں دو میزائل نظام ایس 400 اور ایس 300 بھی موجود ہیں اور ان کے علاوہ پینٹسر ایس 1 میزائل نظام بھی نصب ہے۔

مذکورہ فضائی اڈے پر اس وقت 3 ہزار فوجی اہل کار اور عسکری ماہرین موجود ہیں۔

روس توڑنیڈو- S راکٹ لانچرز بھی شام بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی تیاری سے وہ حال ہی میں فارغ ہوا ہے۔ البتہ یہ ابھی واضح نہیں کہ ان لانچرز کو حمیمیم یا طرطوس میں سے کہاں بھیجا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں