.

ایران میں انتفاضہ کا 9 واں دن، 50 ہلاکتوں کے خلاف’یوم الغضب‘

تبریز میں احتجاجی مظاہرے روکنے کےلیے شہر فوجی چھاؤنی میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ریاستی جبر کے باوجود آج جمعہ کو سماجی، سیاسی اور معاشی نانصافیوں کے خلاف عوامی انتفاضہ جاری رہی۔ ایران میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا آج 9 واں دن تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں انتفاضہ کارکن نے جمعہ الغضب برائے شہداء‘ منانےکا اعلان کیا۔ مظاہرین نے ایرانی پولیس کے ہاتھوں 22 مظاہرین سمیت 50 افراد کے قتل کی شدید مذمت کی۔

سوشل میڈیا پر کارکنوں نے نماز جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاج کی اپیل کی گئی تھی۔ دوسری جانب حکومت نے مذہبی مدارس[ حوزات دینیہ]کے طلباء، بسیج ملیشیا کےعناصر اور پاسداران انقلاب کو شہریوں کو مظاہروں میں شرکت سے روکنے کے لیے میدان میں اتارا دیا۔

ایران کے ضلع آذر بائیجان کے مرکزی شہر تبریز میں ’ٹراکٹرسازی گراؤںڈ‘ میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کا امکان ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق تبریز میں احتجاجی جلوس نکالنے سے روکنے کے لیے حکومت نے شہر کو دوسرے علاقوں اردبیل، ارومیہ اور خوی سے ملانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ پولیس اور فوج نے جگہ جگہ ناکے لگا کر تلاشی کا عمل تیز کر دیا ہے۔

ادھر دوسری جانب سوشل میڈیا پر ملک میں نو روز سے جاری عوامی انتفاضہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہروں میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

مقامی اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب ایرانی پولیس نے تبریز شہر کو چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا تھا۔

ادھرایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں 3000 مظاہرین کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ انٹیلی جنس حکام نے مظاہرے منظم کرنے کے الزام میں 43 طلباء کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

ایرانی صدر کے مشیر حسام الدین آشنا نے ایک ٹویٹ میں پاسداران کے سربراہ محمد علی جعفری کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں جاری احتجاج ختم کردیا گیا ہے۔

مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت

ایران کے اصلاح پسند اپوزیشن رہ نما مہدی کروبی کی جماعت ’اعتماد ملی‘ نے پرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں اعتماد ملی کا کہنا ہے کہ ملک میں اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنے والے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت اوراقتدار پر قابض ٹولے پر عاید ہوتی ہے۔

ایک بیان میں مہدی کروبی کی جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مظاہرین کوطاقت سے کچلنے کے بجائے ان سے مذاکرات کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طاقت کے استعمال اور جیلیں بھرنے سے عوام کو احتجاج سے نہیں روکا جا سکتا۔

ایرانی فن کاروں نے بھی حکومت کے خلاف جاری احتجاج میں مظاہرین کی حمایت کی ہے۔ ایران کے سرکردہ فن کار محسن مخملباف نے ایک بیان میں کہ فن کار برادری مظاہرین کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کی طرف سے پرامن مظاہرین اور اصلاح پسندوں کے خلاف تشدد کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔