.

ایرانی سنیوں نے بھی ملک میں جاری 'عوامی تحریک' کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں صوبہ بلوچستان میں ایک سنت کی نمائندہ جماعت کے امام مولوی عبدالحمید نے ملک میں دس روز سے جاری احتجاج کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایران میں پالیسیوں اور قوانین کی تبدیلی لازم ہے۔

ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن "زمانہ" کے مطابق مولوی عبدالحمید کا مزید کہنا تھا کہ "ہر ایسے قانون کا تبدیل کیا جانا ناگزیر ہے جو لوگوں کے مسائل حل نہ کر سکتا ہو اور مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہو"۔

زاہدان میں اہل سنت کے آئمہ کے برخلاف مرشد اعلی علی خامنہ ای کی طرف براہ راست مقرر کردہ جمعے کے آئمہ نے حالیہ احتجاجی مظاہروں پر شدید نکتہ چینی کی اور انہیں غیر ممالک کے زیر قیادت ایک نیا فتنہ قرار دیا۔

ایران میں جمعرات 28 دسمبر کو مشہد شہر سے شروع ہونے والا عوامی احتجاج دسویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ کل جمعے کے روز اس میں تُرک آذربائیجانی باشندے بھی شامل ہو گئے۔ ملک کے مختلف شہروں تک پھیل جانے والے ان مظاہروں کے دوران اب تک 21 افراد ہلاک اور 1700 گرفتار ہو چکے ہیں۔

ایرانی صوبے بلوچستان میں اہل سنت کے امام نے حکام کو نصیحت کی ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر کان دھریں۔

ادھر ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے مظاہروں میں مرشد علی خامنہ ای کی سبک دوشی کے مطالبے کے نعرے لگانے والوں کو "انارکی پھیلانے والے بلوائی" قرار دیا ہے۔

مولوی عبدالحمید نے مظاہرین سے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاج کے دوران تشدد سے دُور رہیں اور خاموشی سے پُرامن طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ جاری رکھیں۔

مولوی عبدالحمید کے مطابق ملک کے اہلِ سنت اپنے خلاف امتیازی برتاؤ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایران میں سُنّیوں کو چالیس برسوں سے امتیاز کا سامنا ہے۔