.

پاسدارانِ انقلاب کا ’داعش‘ کے خلاف فرضی جنگ شوشہِ حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اورعالمی دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ کے درمیان مبینہ ’یارانے‘ کی خبریں اور قیاس آرائیاں نہ صرف عالمی سطح پر کی جاتی رہی ہیں بلکہ خود ایرانی عوام کو بھی اپنی حکومت کے اس دعوے کی صداقت پر اعتبار نہیں کہ پاسداران انقلاب کی داعش کے خلاف جنگ میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ فرضی جنگیں ہیں۔

’داعش‘ کا مرکز شام اورعراق میں تھا اور وہاں سے ہزاروں کلو میٹر دور مغربی ممالک میں داعش متعدد اہداف پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ یورپی ملکوں کو اس لیے نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتی رہی ہے کہ یہ ممالک اس کے خلاف عالمی فوجی اتحاد میں شامل تھے۔

داعش اپنے قیام سے لے کرآج تک چار سال کے دوران ایران کے خلاف کسی بھی قابل ذکر واقعے میں قصور وار قرار نہیں دی گئی اور نہ ہی داعش کی طرف سے ایسا کوئی حملہ کیا گیا۔ البتہ ایرانی حکومت دنیا کو دکھانے کے لیے داعش کے خلاف لڑنے اور عراق وشام میں داعش کو شکست دینے میں معاونت کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔

گذشتہ اتوار کو ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ایرانی پولیس نے تہران سے 16 داعشی عناصر کو حراست میں لیا ہے۔ ایران کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ گرفتارعناصر کا تعلق’دہشت گرد‘ گروپ سے ہے۔ یہ لوگ عراق کی سرحد عبور کرکے سرحدی ضلع کرمان شاہ کے بمو شہر میں پہنچ چکے تھے۔

اس سے قبل ایران خود بھی یہ دعویٰ کرتا رہا ہےاس نےشام اور عراق کی حکومتوں کے ساتھ مل کر خطے سے داعش کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا ہے۔

مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایران نے شام اور عراق کی حکومت کے ساتھ مل کر داعش کا خاتمہ کرچکا ہے تو یہ لوگ کہاں سے ایران میں آئے۔ ایران کی کیسے عبور کی اور ان کا موجودہ حالات میں ایران میں داخلے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔

’وائس آف امریکا‘ چینل نے ایک فوٹیج جاری کی ہے جس میں ایرانی صحافی علی جوان مردی کو ان سوالوں کے جوابات دیتے دیکھا جاسکتا ہے۔ علی جوان مردی جو کردوں، داعش اور عراقی فوج کے درمیان ہونے والی لڑائیوں کی کوریج کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت پہلے بھی عراق اور شام کے داعشی عناصر کے داخلے پر خبردار کرتا رہا ہے۔ عراق کے کردستان سے متصل طوزخورماتو اور کلار کے ایرانی علاقے داعشی شدت پسندوں کے ایران میں داخلے کا ممکنہ راستہ بتائے جاتے ہیں۔ دوماہ پیشترجب عراق میں داعشی شدت پسندوں کو شکست دی گئی تو کہا جا رہا تھا کہ داعشی عناصر ان علاقوں سے ایران داخل ہوسکتے ہیں۔

ایرانی امور کے صحافی نے بھی استفسار کیا ہے کہ آخر یہ عناصر کہاں سے داخل ہو کر ایران داخل ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب داعشی عناصر کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ بمو شہر کے دونوں طرف سرحد پر کڑا پہرہ موجود ہے۔ ایسے میں ان عناصر کی اس علاقے سے گذر کرایران آمد بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایران میں داعشی عناصر کو ایک ایسے وقت میں حراست میں لیا گیا جب ایران میں چالیس سال کے بعد ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف عوام کا احتجاج جاری ہے۔ حالیہ ایام کے دوران بڑی تعداد میں شہریوں نے حکومت گرانے کے لیے مظاہرے کیے۔ ایسے میں داعشی عناصر کے ایران میں داخلے اور ان کی سرگرمیوں کا شوشہ چھور کر ملک میں جاری پرامن تحریک انتفاضہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے گذشتہ اتوار کو خبر دی تھی کہ بری فوج کے سربراہ بریگیڈیئر محمد باک بور نے داعس سے تعلق رکھنے والے 16 مشتبہ عسکریت پسندوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کا ایران میں داخل ہونے والا گروپ 21 جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو ایران میں تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ گروپ کے دیگر عناصر کی تلاش کے لیےچھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر داعشی عناصر کی اتنی بڑی تعداد نے ایک ساتھ کیسے گرفتاری دے دی؟ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایران میں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کی سزا پھانسی ہے۔ خود داعش کا وطیرہ بھی ماضی میں مختلف رہا ہے۔ داعشی شدت پسندوں نے جب بھی خطرہ محسوس کیا یا انہیں گرفتاری کا ڈر ہوا تو انہیں نے گرفتاریوں پر خود کشی کو ترجیح دی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم کی جانب سے داعش کے خلاف ’خیالی‘ جنگوں کا دعویٰ اور گرفتار عناصر کے اعترافی بیانات کو منظرعام پر لا کر عوام کو خوف کا شکار کرنے اور انہیں حکومت کے خلاف احتجاج سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

ایرانی حکومت کو خدشہ ہے کہ ملک میں جاری عوامی احتجاج ولایت فقیہ کے چالیس سالہ بوسیدہ نظام کا دھڑن تختہ کرسکتی ہے۔ حال ہیں ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی سپریم لیڈر کو خبردار کیا تھا کہ وہ عوام کے مطالبات کو نظراندازنہ کریں ورنہ انہیں بھی شاہ ایران کے عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔