.

مصری فورسز کے سیناء میں بڑے آپریشن میں 38 جنگجو ہلاک ،500 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سکیورٹی فورسز نے جزیرہ نما سیناء میں جاری بڑی کارروائی میں 38 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے اور پانچ سو سے زیادہ جنگجوؤں اور مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

مصری فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے انتہائی خطرناک 10 انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔اس سے پہلے اس نے 28 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی تھی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ مزید چار سو مشتبہ جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس سے پہلے اس نے 126 جنگجوؤں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔

فوج کے ترجمان کرنل تامر الرفاعی نے بیان میں بتایا ہے کہ ’’ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے جنگجو (شمالی سیناء کے دارالحکومت ) العریش شہر میں ایک مکان میں چھپے ہوئے تھے۔فوجی کارروائی میں متعدد گاڑیوں اور ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے‘‘۔

مصری فوج نے گذشتہ جمعہ کو اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پر واقع جزیرہ نما سیناء ، وسطی نیل ڈیلٹا اور لیبیا کی سرحد کے ساتھ واقع مغربی صحرا میں ’’ آپریشن سیناء 2018ء ‘‘ کے نام سے جنگجوؤں کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

یہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب صدر عبدالفتاح السیسی مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے امیدوار ہیں۔ ان کی پہلی مدت صدارت میں سکیورٹی فورسز سیناء میں بالخصوص اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بالعموم مسلسل انتہا پسندوں اور جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہیں لیکن وہ داعش سے وابستہ جنگجوؤں کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کرسکی ہیں۔شمالی سیناء سے تعلق رکھنے والے داعش سے وابستہ جنگجو ملک کی سکیورٹی فورسز ،قبطی عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر وقفے وقفے سے تباہ کن حملے کرتے رہے ہیں۔