.

سلامتی کونسل میں شام میں ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کی قرارداد کی متفقہ منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں ایک ماہ کے لیے فوری جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام رکن ممالک نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی روس نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی ہے ۔

منظور کردہ قرار داد میں پورے شام میں تمام فریقوں سے کسی تاخیر کے بغیر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ لڑائی کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد تک انسانی امداد پہنچائی جاسکے اور جنگ زدہ علاقوں سے شدید زخمیوں اور علیل افراد کو دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جاسکے۔

سلامتی کونسل نے شامی فوج کے دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ پر گذشتہ ایک ہفتے سے جاری تباہ کن فضائی حملوں کے بعد یہ قرارداد منظور کی ہے۔مشرقی الغوطہ میں واقع قصبوں اور دیہات پر اس فضائی بمباری کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ سو ہوچکی ہے اور سیکڑوں افراد زخمی ہیں جنھیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

سلامتی کونسل میں قرارداد پر رائے شماری کے بعد اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر نِکّی ہیلی نے کہا کہ ’’ ہم اس بحران کا بہت تاخیر سے جواب دے رہے ہیں ، بہت زیادہ تاخیر سے‘‘۔انھوں نے روس کو قرارداد کی منظوری میں تاخیر کا ذمے دار قراردیا ہے۔

سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے روس کو اس قرارداد کی حمایت پر آمادہ کرنے اور ویٹو سے روکنے کے لیے اس کی زبان میں کچھ تبدیلی کی ہے ۔پہلے مسودے میں یہ کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کا آغاز قرار داد کی منظوری کے 72 گھنٹے کے اندر ہوجائے گا لیکن اب روس کے مطالبے پر اس متعیّنہ وقت کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کی جگہ ’’ بلاتاخیر‘‘ کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔اسی طرح امدادی سامان مہیا کرنے اور زخمیوں کے نکالنے کے حوالے سے ’’ فوری‘‘ کی اصطلاح بھی حذف کردی گئی ہے۔

سفارت کاروں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ الفاظ کی اس تبدیلی سے شام میں جنگ بندی میں تاخیر کی راہ ہموار نہیں ہوگی کیونکہ کونسل کے ارکان نے قرارداد پر بحث کے وقت واضح کیا تھا کہ جنگ بندی پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

سفار ت کاروں کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس سلامتی کونسل کو پندرہ دن کے اندر شام میں جنگ بندی سے متعلق اپنی رپورٹ دیں گے۔ اس قرار داد میں ’’بلاتاخیر‘‘ پورے شام میں جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں محفوظ ، بلا رکاوٹ اور بلا تعطل امدادی سامان بہم پہنچایا جاسکے، مریضوں اور زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے اور علاج کے لیے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا سکے۔