.

پائیلٹ کی غلطی کے بعد شام نے ایف 16 طیارہ مار گرایا: اسرائیلی فضائیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صہیونی فوج نے شامی فوج کے طیارہ شکن میزائل کے حملے میں اپنے ایف 16 لڑاکا طیارے کی تباہی کا ایک نیا جواز پیش کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پائیلٹ کی پیشہ ورانہ غلطی کی وجہ سے شامی فوج اس طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

اسرائیل کے اس لڑاکا طیارے کو 10 فروری کو شام میں ایران کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے سے واپسی پر مارگرایا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان تمام سلسلہ وار واقعات کا آغاز ایران کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے اسرائیل کی فضائی حدود میں در آنے کے بعد ہوا تھا۔یہ ڈرون شام سے چھوڑا گیا تھا اور اس کو اسرائیل کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر نے مار گرایا تھا۔اس کے فوری بعد اسرائیلی فضائیہ نے اپنے ایف 16 طیارے کو شام میں ڈرو ن کے کنٹرول کی جگہ پر حملے کے لیے بھیجا تھا۔

اسرائیلی فضائیہ کے ایک سینیر افسر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس مشن میں حصہ لینے والے طیاروں میں سے صرف اس ایک طیارے نے حملے کی صورت میں جوابی حفاظتی اقدام نہیں کیا تھا اور یہ اسی لیے میزائل کا نشانہ بن گیا تھا۔اس کا ملبہ اسرائیل کے شمالی علاقے میں گرا تھا۔

اس افسر نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران میں متعدد طیاروں کو مشن کی تکمیل کے بعد جوابی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا مگر وہ اپنا دفاع کرنے میں کامیاب رہے تھے اور صرف یہ ایک طیارہ پیشگی حفاظتی اقدام کو بروئے کار نہ لانے کی وجہ سے اپنا دفاع نہیں کرسکا تھا۔

اسرائیلی فوج کی تحقیقات کے خلاصے کے مطابق ’’اس طیارے کے عملہ نے مشن کی تکمیل کا انتخاب کیا تھا اور وہ اپنا دفاع نہیں کرسکا تھا۔اس کا یہ عمل دشمن کے فائر کی صورت میں معیاری طریق کار کے مطابق نہیں تھا‘‘۔

اسرائیلی افسر نے صحافیوں کو مزید بتایا ’’ایسی انٹیلی جنس اطلاعات موجود تھیں کہ اس مشن کو کامیابی سے مکمل کیا جاسکتا تھا۔اس طیارے کو گرایا نہیں جانا چاہیے تھا۔ہم اسی معیار کی توقع کررہے تھے اور ہمیں اسی کی تربیت دی گئی ہے‘‘۔ شامی علاقے سے میزائل لگنے کے بعد اس طیارے کا پائیلٹ نکلتے ہوئے شدید زخمی ہوگیا تھا۔اس کے معاون کو معمولی زخم آئے تھے اور وہ دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہوگیا ہے۔

اس افسر کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے شامی صدر بشار الاسد کے اتحادی روس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اسرائیل شام میں فضائی حملوں سے قبل روس کے ساتھ مواصلاتی رابطے میں ہوتا ہے تا کہ فضا میں کسی تصادم سے بچا جاسکے۔

یاد رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیڈر سید حسن نصراللہ نے اسرائیلی طیارے کی تباہی کو ایک بڑی فوجی کامیابی قرار دیا تھا اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ اس واقعے سے اسرائیل کے ناقابل ِتسخیر ہونے کا بھرم بھی کھل گیا ہے۔