.

شامی ذرائع ابلاغ کا ’مظلومیت کا جعلی ڈرامہ رچانے کا بھونڈہ حربہ!

’فلسطین کے فرضی زخمی بچوں کوشام میں حقیقی زخمی قراردیا گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایک طرف اسدی فوج اور اس کی معاون ملیشیاؤں کی جانب سے مشرقی الغوطہ میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف شامی باغیوں کو جنگی جرائم کا قصور ٹھہرانے کے لیے اسدی ذرائع ابلاغ کی جانب سے رچایا جانے والا ایک جعلی ڈرامہ بے نقاب ہوگیا ہے۔

فلمی طرز پر رچائے جانے والے اس بھونڈے حربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکوت کے وفادار ذرائع بشارالاسد کے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے باغیوں کے حملوں کے فرضی زخمی دکھا کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق اسدی ذرائع ابلاغ کی جعل سازی کے اسالیب میں حال ہی میں غزہ کی پٹی ہونے والی ایک آرٹ گیلری میں بنائی گئی تصاویر مشرقی الغوطہ میں باغیوں کے حملوں سے متاثرہ افراد کے طور دیکھایا گیا ہے۔

فلسطینی آرٹسٹ عبدالباسط اللولو نے ’الحدث‘ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف فرضی مناظر کو اپنی فن کارانہ مہارت کے ساتھ خاکوں یا تصاویر میں ڈھالتے ہیں مگر شامی میڈیا میں جن بچوں کو باغیوں کے حملوں میں زخمی دکھایاگیا وہ بچے فلسطینی ہیں جنہیں غزہ میں آرٹ ورکشاپ کے دوران فرضی طورپر زخمی دکھا کر وہاں کے حالات کی ترجمانی کی کوشش کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ شام میں مشرقی الغوطہ کےمقام پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور روسی فوج مسلسل بربریت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ شام میں جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے فرضی اور فلمی مقاصد کے لیے تیار کردہ بہ ظاہر زخمی افراد کو شامی ذرائع ابلاغ پر دکھا کریہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ شامی ہیں جو باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق روسی ذرائع ابلاغ ’آرما‘ نامی ایک ویڈیو گیم کو شام میں ہونے والی لڑائی کے مناظر کے طورپردکھایا جا رہا ہے جس میں ایک روسی فوجی الیکذنڈر بروخوینکوکو ہلاک ہوتے دکھایا گیا ہے۔