ایران کی شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، الغوطہ پر حملے جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ایرانی نیوز ایجسنی تسنیم نے چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اور شامی حکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاہم وہ اقوام متحدہ کی جانب سے فائر بندی کے فیصلے کا "احترم" کریں گے۔ بشار حکومت اور تہران کے نزدیک ان علاقوں پر "دہشت گردوں" کا کنٹرول ہے۔

عام طور پر ایران اور شامی حکومت دونوں ہی مسلح شامی اپوزیشن یا شہریوں تک کے خلاف حملوں کے جواز کے لیے "دہشت گردوں" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جیسا کہ دمشق کے نواح میں الغوطہ الشرقیہ کے علاقے میں دیکھا جا رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے ڈائریکٹر کے مطابق اتوار کی صبح الغوطہ الشرقیہ میں شامی حکومت کے حملوں کا پھر سے آغاز ہو گیا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 پر الشیفونیہ کے علاقے میں دو فضائی حملے ہوئے۔ یہ کارروائی سلامتی کونسل کی طرف سے شام میں جنگ بندی کی توثیق کے چند منٹ بعد سامنے آئی۔ المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ سات روز کے اندر الغوطہ الشرقیہ پر وحشیانہ بم باری کے نتیجے میں 519 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں