.

احمدی نژاد، بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبہ انٹیلی جنس کے ڈیٹی چیف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف اٹھنے والی عوامی بغاوت کے آغاز میں صدر اسد کی حمایت سے دست بردار ہو گئے تھے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ احمد نژاد، جو سنہ 2011ء میں ایران کے صدر تھے، نے بشارالاسد کی مدد کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں اقتدار سے،ہٹانے پر زور دیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف حمید محبی نے ایک بیان میں بتایا کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ہم بشارالاسد کے لیے مزید کچھ نہیں کر سکتے۔ بشارالاسد کے اقتدار کا عرصہ ختم ہو چکا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو یہ پتا چلا کہ صدر نژاد بشارالاسد کی حمایت سے دست بردار ہو رہے ہیں تو انہوں نے سخت تنبیہ کی اور بشارالاسد کی حمایت سے دست برداری سے باز رہنے کی تاکید کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل محبی نے کہا کہ جب شام میں حکومت کے خلاف لڑائی دمشق کی سڑکوں اور گلیوں میں پہنچ گئی تو ہمارے بہت سے سینیر عہدیدار بھی بشارالاسد کی حمایت سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ اس موقع پر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ ہم بشارالاسد کو بچانے کے لیے مزید کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی سال سے بشارالاسد کی حمایت اور مدد کے حوالے سے ہمارے اور روس کے درمیان اختلافات تھے۔ روسی کہتے تھے کہ ہمیں شام میں اسد رجیم کے کسی دوسرے دھارے کی مدد کرنی چاہیے تاکہ بشارالاسد کے اقتدار کو کسی نا کسی شکل میں برقرار کھا جائے۔