ریڈ کراس کا 25 ٹرکوں پر مشتمل امدادی قافلہ مشرقی الغوطہ میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کے امدادی سامان سے لدے 25 ٹرک شام کے محاصرہ زدہ علاقے مشرقی الغوطہ میں داخل ہوگئے ہیں۔

آئی سی آر سی کی خاتون ترجمان آئیولینڈا ژاقمت نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ مشرقی الغوطہ میں بھیجے گئے امدادی سامان میں26100 افراد کے لیے ایک ماہ کے راشن کے علاوہ دوسری اشیاء ہیں۔

یہ امدادی قافلہ مشرقی الغوطہ میں واقع سب سے بڑے شہر الدوما کی جانب بھیجا گیا ہے۔اس پر باغی دھڑے جیش الاسلام کا کنٹرول ہے۔ترجمان نے بتایا ہے کہ آئی سی آر سی نے خوراک کے 5220 پارسل بھیجے ہیں اور عالمی خوراک پروگرام نے آٹے کے 5220 تھیلے بھیجے ہیں۔ایک پارسل سے پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان ایک ماہ تک گزارہ کر سکتا ہے۔

شامی فوج نے گذشتہ ایک ماہ سے جاری کارروائی کے بعد دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے اور اس کے بڑے شہر دوما کا زمینی راستہ باغیوں کے زیر قبضہ دوسرے علاقوں سے منقطع کردیا ہے۔ شامی فوج نے دوما اور حرستا کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ اور ایک قصبے مسرابا پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

شامی فورسز نے مشرقی الغوطہ کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ان میں ایک حصہ دوما اور اس کے نواحی علاقوں پر مشتمل ہے،دوسرا حصہ مغرب میں واقع حرستا اور اس کے نواحی علاقوں اور تیسرا حصہ مشرقی الغوطہ کے جنوب میں واقع باقی علاقوں پر مشتمل ہے۔

دریں اثناء روس کی خبررساں ایجنسی انٹر فیکس نے اطلاع دی ہے کہ آج قریباً ایک سو شہریوں کا مشرقی الغوطہ سے انخلا متوقع ہے۔روس نے اس محاصرہ زدہ علاقے میں روزانہ پانچ گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کررکھا ہے۔گذشتہ دو روز کے دوران میں بھی زخمیوں ، مریضوں اور خواتین کو چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں مشرقی الغوطہ سے نکالا گیا تھا۔

انٹر فیکس نے روس کی وزارت دفاع کے تحت شام میں کام کرنے والے مرکز برائے مصالحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرقی الغوطہ میں 137 ٹن خوراک انسانی امداد کے طور پر پہنچائی جارہی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق روسی اور شامی لڑاکا طیاروں نے مشرقی الغوطہ کے جنوب میں ایک باغی گروپ فیلق الرحمان کے زیر قبضہ علاقے پر رات بھر دسیوں فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں تین بچوں سمیت کم سے کم تیس شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے 18 فروری کو مشرقی الغوطہ پر دوبارہ قبضے کے لیے یہ نئی کارروائی شروع کی تھی۔اس کے بعد سے شامی فوج نے روس کے تباہ کن فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ کا قریباً 60 فی صد علاقہ باغیوں سے واپس چھین لیا ہے اور ان کی مسلسل پیش قدمی جاری ہے۔

رصد گاہ کے مطابق شامی فوج کی مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف شہروں اور قصبوں پر گذشتہ چار ہفتے سے جاری تباہ کن فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری کے نتیجے میں 300بچوں سمیت 1100 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں