.

اسرائیل نے شام کے خفیہ جوہری پلانٹ تباہی کی ویڈیو 11 برس بعد ریلیز کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ سن 2007 میں شامی علاقے دیرالزور کے قریب واقعے جوہری پلانٹ کی تباہی دراصل اس کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ہوئی تھی، جس کا مقصد ایران کو ایک واضح پیغام دینا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے عوامی سطح پر پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی ہے کہ دس برس سے زائد عرصے قبل شامی جوہری پلانٹ کو تباہ کر کے ایران کو ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ اسرائیل خطے میں جوہری ہتھیار قبول نہیں کرے گا۔ اسرائیل کے محکمہ سراغرسانی کے وزیر اسرائیل کاٹس نے کہا اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’یہ کارروائی اور اس کی کامیابی نے واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل جوہری ہتھیار ان ہاتھوں میں قبول نہیں کرے گا، جو دوسروں کی بقا کو خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔‘‘

شامی علاقے دیرالزور کے قریب الکبار نامی جوہری تنصیب پر اسرائیلی ایف سولہ طیاروں کی مدد سے حملہ کیا گیا تھا، جب کہ اسرائیل نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ اسرائیلی قانون کے مطابق دس برس سے زائد عرصہ بیت جانے کے بعد اب بالآخر خفیہ معلومات کو افشا کرنے پر عائد پابندی ختم ہوئی، جس کے بعد یہ تصدیق کی گئی۔ یہ شامی جوہری تنصیب اس وقت تباہ کی گئی تھی، جب وہ ابھی جزوی طور پر ہی تعمیر ہوئی تھی۔

اس سے قبل اس پلانٹ کی تباہی میں اسرائیلی ہاتھ سے متعلق خبریں فقط امریکی حکام کی جانب سے سامنے آتی رہی ہیں تاہم اسرائیل نے خود کبھی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خفیہ آپریشن کی فوٹیج اور خفیہ دستاویزات جاری کی گئی ہیں، جن میں اس پلانٹ پر بمباری اور اس کی تباہی ظاہر کی گئی ہے۔

اسرائیلی بیان کے مطابق یہ جوہری ری ایکٹر شمالی کوریا کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا تھا کہ اور چند ہی ماہ میں تکمیل ہونے والا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تاہم تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ تفصیلات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں، جب گذشتہ کئی ماہ سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایران کی بابت سخت موقف اختیار کریں۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمان نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا، ’’حالیہ کچھ سالوں میں اسرائیل کے دشمنوں کے حوصلے بڑے ہیں مگر اسرائیلی فضائیہ کی قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہر کسی کو اس مساوات کو سمجھ لینا چاہیے۔‘‘