.

سیناء میں جنگجو جلد شکست سے دوچار ہوں گے: السیسی کا صدارتی انتخاب سے قبل دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ جزیرہ نما سیناء میں جنگجو بہت جلد شکست سے دوچار ہوں گے۔انھوں نے یہ دعویٰ صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ سے تین روز قبل کیا ہے۔ وہ صدارتی انتخاب میں مضبوط امیدوار ہیں اور ان کی جیت یقینی ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا ( مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی ) کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے شمالی سیناء میں جمعہ کو ایک ہوائی اڈے کا دورہ کیا اور وہاں فوجیوں اور ہوابازوں کے درمیان گھل مل گئے ۔اس موقع پر ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ ہم بہت جلد وقت کے منحرفین کے خلاف فتح منانے کے لیے دوبارہ یہاں آئیں گے‘‘۔ منحرفین سے ان کی مراد حکومت کے خلاف ہتھیار بند جنگجو ہیں۔

مصری فورسز صدر السیسی کے حکم پر اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ واقع شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں انتہا پسند جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔ انھوں نے نومبر 2017ء میں سیناء ہی میں ایک مسجد میں تباہ کن حملے میں 300 سے زیادہ نمازیوں کے جاں بحق ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کو تین ماہ میں جنگجوؤں کو شکست دینے کا حکم دیا تھا۔

مصری فوج کے بہ قول سیناء میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں آرمی ، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان بے مثال رابطہ کاری ہے ۔ تاہم تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے شمالی سیناء کو جنگجوؤں سے پاک کرنے کے لیے نئے جنگی حربوں کے کارآمد نتائج برآمد ہوتے نہیں دیکھے ہیں۔

مصری فوج جزیرہ نما سیناء کے علاوہ وسطی نیل ڈیلٹا اور لیبیا کی سرحد کے ساتھ واقع مغربی صحرا میں بھی ’’ آپریشن سیناء 2018ء ‘‘ کے نام سے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور اس کے دوران میں اس نے اب تک داعش سے وابستہ تین سو جنگجوؤں کی ہلاکت اور سیکڑوں کو گرفتار کرنے کے دعوے کیے ہیں۔