حوثیوں نے دوسروں کومسترد کیا،ان کی بغاوت دنیا تسلیم نہیں کرتی: روس
روس نے حوثی باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کے خلاف لڑائی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ حوثی باغیوں کی بغاوت کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں متعین روسی سفیر فلادی میر ڈیڈوشکین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے آئینی حکومت اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کو تسلیم نہیں کیا اور عالمی برادری ان کی بغاوت کو نہیں مانتی۔
ڈیوشکین نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے اپنے حامی سابق صدر اور پیپلز کانگریس کے سربراہ علی عبداللہ صالح کو قتل کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی صالح کے قتل کے بعد روس نے صنعاء سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلالیا تھا۔
روسی سفیر نے کہا کہ ان کے ملک سمیت عالمی برادری یمن میں آئینی حکومت کو تسلیم کرتی اور باغیوں کے انقلاب کو مسترد کرچکی ہے۔ علی عبداللہ صالح کے قتل کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ حوثی کسی دوسرے کو قبول نہیں کرتے۔
یمنی صدر کے مشیر عبدالعزیز جباری سے ملاقات کے دوران روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن میں سیاسی استحکام ، ریاستی اداروں کی بحالی اور دیر پا قیام امن کی مساعی جاری رکھے گا۔
-
صنعا ء میں ارحب کے معرکے کے بعد بغاوت کا خاتمہ ہوجائے گا: یمنی کمانڈر
یمنی حکومت کی فورسز نے دارالحکومت صنعا ءکے نواح میں واقع ضلع ارحب کی جانب ...
بين الاقوامى -
یمن : حوثی اور علی صالح کے پیروکار کھل کر آمنے سامنے آگئے
صنعا میں خود ساختہ حکومت کی وزارتوں پر حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں میں نیا ...
بين الاقوامى -
حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو صنعا میں داخلے سے روک دیا
یمن میں حوثی ملیشیا نے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی ایک اور خلاف ورزی کا ...
بين الاقوامى