انسداد بدعنوانی کا آغاز سپریم لیڈر کے دفتر سے ہونا چاہیے:رکن پارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے ایک سرکردہ سیاسی رہ نما اور رکن پارلیمنٹ نے انسداد بدعنوانی مہم کے حوالے سے زور دیا ہے کہ یہ مہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر سے شروع ہونی چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں رکن پارلیمان غلام علی جعفر زادہ ایمن آبادی نے کہا کہ اگر ملک میں حقیقی معنوں میں بدعنوانی کا خاتمہ ضروری ہے تو اس کا آغاز سپریم لیڈر کے دفتر سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام اداروں میں وسیع پیمانے پر کرپشن پھیل چکی ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں جعفر زادہ کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومتی عہدیداروں سے لوٹا ہوا مال واپس کرنے کے قانون کا نفاذ مشکوک لگتا ہے۔ اس وقت کرپشن ریاست کے پورے ڈھانچے کو کھوکھلا کررہا ہے۔ امید ہے انسداد بدعنوانی قانون اس کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ ایرانی رکن پارلیمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں کرپشن کے حوالے سے ریاستی ادارے اور سرکردہ شخصیات ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرا رہی ہیں۔

سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کرپشن کے حوالے سے سرکاری عہدیداروں پر کڑی تنقید کی ہے جب کہ ایرانی حکام سابق صدر نژاد پر بھاری رقوم کی خورد برد کاالزام لگاتےہیں۔ سابق صدر نے حال ہی میں ایک بیان میں الزام عاید کیا تھا کہ سپریم لیڈر نے 1 کھرب 90 ارب ڈالر کی رقم کی خورد برد کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں