.

"تحرير الشام" تنظیم کے درجنوں جنگجو الیرموک سے اِدلب پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جنگجو تنظیم ہیئۃ تحریر الشام (سابقہ النصرہ محاذ) کے درجنوں ارکان الیرموک کیمپ سے منگل کی صبح شمالی شام پہنچ گئے۔ ان جنگجوؤں کی آمد بشار حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایک معاہدے کے تحت ہوئی ہے۔ معاہدے میں اِدلب صوبے کے دو محصور قصبوں سے شہریوں کو باہر لانے کی شق شامل ہے۔

تبادلے کی کارروائی حلب کے جنوبی نواح میں العیس کے علاقے میں انجام پائی۔ یہ اس معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درامد ہے جس کا اعلان دمشق حکومت نے اتوار کے روز کیا تھا اور بعد ازاں ہیئۃ تحریر الشام نے اس کی تصدیق کر دی۔

معاہدے میں تحریر ہے کہ شامی حکومت دمشق کے جنوب میں واقع الیرموک کیمپ سے ہیئۃ تحریر الشام تنظیم کے سیکڑوں جنگجوؤں کو باہر آنے کی اجازت دے گی اور اس کے مقابل تنظیم اِدلِب صوبے کے دو شیعہ قصبوں الفوعہ اور کفریا سے پانچ ہزار کے قریب افراد کو باہر جانے دے گی۔ یاد رہے کہ مذکورہ قصبے 2015ء سے محصور ہیں۔

ہیئۃ تحریر الشام کی مقامی قیادت کے مطابق تنظیم کے 107 جنگجو اپنے اہل خانہ میں شامل 33 افراد (خواتین اور بچوں) کے ساتھ اِدلب جاتے ہوئے میں منگل کی صبح العیس کے علاقے میں پہنچے۔

شامی سرکاری میڈیا نے معاہدے پر عمل درامد مکمل ہونے کی تاریخ کا تعین نہیں کیا تاہم سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق پیر کے روز سے اب تک 22 بسیں الفوعہ اور کفریا کے قصبوں میں پہنچ چکی ہیں۔ ان کے ذریعے پانچ ہزار محصور افراد میں سے پہلی کھیپ یعنی 1500 شہریوں کو منتقل کیا جائے گا۔

افراد کے تبادلے کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شامی حکومت کی فورسز نے داعش تنظیم کے خلاف اپنے آپریشن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ داعش تنظیم فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ الیرموک کے بڑے حصّے پر قابض ہے۔

دمشق کے جنوب میں حالیہ فوجی آپریشن کا مقصد بشار کی فوج کی جانب سے دارالحکومت کا پورا کنٹرول واپس لینا ہے۔ اس سے قبل وہ مشرقی غوطہ پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے جو کئی برس تک دمشق کے قریب اپوزیشن گروپوں کا نمایاں ترین گڑھ رہا۔