تیل کے کنوؤں کی کھدائی میں شریک سعودی خاتون پٹرولیم سائنس دان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈاکٹر عبیر العلیان مشرق وسطی میں Oil and Gas Woman of the Year کا ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔ گزشتہ برس انہیں یہ اعزاز توانائی کے شعبے میں گراں قدر کوششوں پر دیا گیا۔ انہوں نے دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی سعودی ارامکو کے لیے کنوؤں کی کھدائی کے رساؤ کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے جدّت کا حامل طریقہ پیش کیا۔

ڈاکٹر عبیر نے 2011ء میں ارامکو کمپنی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے قبل وہ دمام یونیورسٹی میں تجزیاتی کیمیاء کی پروفیسر اور محقق کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "هن" میں گفتگو کرتے ہوئے عبیر نے بتایا کہ "توانائی کا شعبہ میرے لیے بچپن سے ہی کشش کا حامل تھا۔ میرے والد تیل کے سیکٹر میں کام کرتے تھے۔ میرا خواب تھا کہ انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد میں تیل کے سیکٹر میں اسپیشلائزیشن کروں۔ تاہم مملکت میں اس میدان میں خواتین کے اسپیشلائزیشن کے مواقع نہ ہونے کے سبب میں نے اپنی دوسری پسند یعنی کیمیاء کے شعبے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ البتہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ اُس وقت میری جانب سے انجام دی گئی تمام تحقیق درازوں میں مقفل پڑی رہے گی۔ میں سعودی کیمیکل سوسائٹی کی رکن تھی جس میں سعودی ارامکو کے ملازمین بھی شامل تھے۔ لہذا میرے پاس موقع تھا کہ ان کے ساتھ رابطے میں رہوں اور پھر میں نے ارامکو میں ملازمت حاصل کر لی"۔

ڈاکٹر عبیر نے سعودی خواتین کے لیے اپنے پیغام کہا کہ "جب عورت کسی مرد کے مقابلے میں آتی ہے تو پھر اس مرد کو قائل کرنا مشکل ہو جاتا ہے بالخصوص اُن پیشوں میں جن کے بارے میں یہ معروف ہے کہ یہ مردوں کے لیے ہی ہیں۔ اگر آپ اپنے کام پر یقین رکھتی ہیں یا اس شعبے میں کام کی خواہش رکھتی ہیں تو فورا اسے انجام دے ڈالیے"۔

ڈاکٹر عبیر کے مطابق ماضی کے مقابلے میں سعودی خاتون کے لیے شعبوں میں تنوّع آیا ہے اور اب وہ ترقی کے سفر میں مرد کی شراکت دار بن چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں