روسی فوج نے ادلب میں قیامت ڈھا دی، 38 شہری جاں بحق
شام میں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اسد رجیم کی حلیف روسی فوج نے شمالی مغربی گورنری ادلب میں وحشیانہ بمباری میں درجنوں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے’سیرین آبزرویٹری‘ کے مطابق ادلب کے وسطی علاقے زردنا میں روسی فوج کے جنگی طیاروں سے کی گئی بمباری میں کم سے کم 38 عام شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں جب کہ بڑی تعداد میں شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق گروپ کے مطبق ابتدائی اطلاعات میں 18 عام شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی تھی تاہم مزید ڈیڑھ درجن افراد کی میتیں نکالی گئی ہیں۔ متقولین میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 60 تک بتائی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کے آبزرور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ ممکنہ طورپر ادلب میں بمباری روسی جنگی طیاروں کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس میں روسی ساختہ بم استعمال کئے گئے۔
متاثرہ علاقے کے قریب امدادی کارکن زخمیوں کو فوری طبی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دو ایسے زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے ایک بے ہوش تھا اور دوسرے کے چہرے کی شناخت نہیں ہو رہی تھی۔
خیال رہے ادلب کے جس علاقے کو روسی جنگی طیاروں کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ تحریر شام محاذ جو ماضی میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم ’النصرہ فرنٹ‘ کے طورپر مشہور تھی کے کنٹرول میں ہے۔ حالیہ دنوں میں س علاقے میں روسی فوج کا یہ بدترین حملہ ہے۔