.

عراقی انتخابات : ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے حیران کن نتائج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بارہ مئی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کا آغاز منگل کے روز ہوا تھا۔ اس سلسلے میں مبصرین نے باور کرایا ہے کہ کرکوک صوبے کے شہر داقوق میں الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ سابقہ الکٹرونک نتائج اور اب ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے نتائج میں واضح اور بڑا فرق سامنے آیا ہے۔

سابقہ اعلان کردہ نتائج میں مقتدی الصدر کے حمایت یافتہ اتحاد "سائرون" کی پہلی پوزیشن تھی جب کہ کرکوک صوبے میں سابق صدر جلال طالبانی کے Patriotic Union of Kurdistan نے برتری حاصل کی تھی۔

کرکوک صوبے کے دو انتخابی مراکز کے حلقے کے ذمّے دار احمد رمزی نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے نتیجے میں صوبے میں ترکمان اور عربوں کی واضح برتری سامنے آئی ہے جب کہ پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے ووٹ کم ہو گئے ہیں۔

رمزی کے مطابق کرکوک میں جمال عبدالناصر اسکول کے انتخابی مرکز کے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے بعد ترکمان فرنٹ نے 738 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یہ تعداد الکٹرونک گنتی کے ذریعے اعلان کردہ سابقہ تعداد 145 ووٹوں سے 593 ووٹ زیادہ ہے۔

رمزی نے مزید بتایا کہ عرب اتحاد نے الکٹرونک گنتی میں 46 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ اب ہاتھوں سے گنتی کے بعد اس کے ووٹوں کی تعداد 193 ووٹوں کے اضافے کے بعد 239 تک پہنچ گئی ہے۔

رمزی کا کہنا تھا کہ کردستان پیٹریاٹک یونین نے الکٹرونک گنتی کے نتائج میں پہلے 1363 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ ہاتھوں سے گنتی کے بعد اس کے ووٹوں کی تعداد 1248 ووٹ کم ہو کر صرف 115 رہ گئی۔

سیاسی تجزیہ کار احمد القیسی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کردستان پیٹریاٹک یونین ہاتھ سے ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی نتائج کے خلاف اپیل داخل کرے گی۔ القیسی کے مطابق تمام جماعتیں اب ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے مکمل ہونے کی منتظر ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عراق کے مجموعی انتخابی مراکز میں 3% مراکز پر ہاتھ سے ووٹوں کی گنتی کا فیصلہ کیا ہے، اگر تبدیل شدہ نتائج مقررہ تناسب سے زیادہ ہوئے تو پھر تمام بیلٹ بکسوں کی دوبارہ سے ہاتھوں سے گنتی عمل میں آ سکتی ہے۔

مبصرین کی نظریں انتخابی کمیشن پر لگی ہوئی ہیں جو ہاتھ سے گنتی کے فوری بعد سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔ البتہ ابھی تک کے اعلان کردہ ابتدائی نتائج کا فرق یہ ظاہر کر رہا ہے کہ حکومت کی تشکیل کا عمل مزید طویل ہو گا کیوں کہ سیاسی منظر نامے پر چھائی ہوئی جماعتوں کی پوزیشن واضح طور پر نیچے آئے گی۔ یہ جماعتیں وفاقی عدالت میں نئے نتائج کے خلاف اپیل کریں گی۔