.

بشار الاسد کی صدارت کے 18 برس مکمل، آغاز کریک ڈاؤن اور اختتام جنگ کے ساتھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد نے ملک کے صدر کی حیثیت سے آج 18 برس مکمل کر لیے ہیں۔ انھوں نے 17 جولائی 2000ء کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

دس جون 2000ء کو شام کے سابق صدر حافظ الاسد کی وفات کے ایک ماہ بعد دس جولائی کو شام کے آئین میں ہنگامی اور جبری ترامیم کے ذریعے بشار الاسد کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا گیا۔

حافظ الاسد کی وفات کے بعد کے عرصے میں شام میں "بہارِ دمشق" کے نام سے ایک لہر اُٹھی جس کے دوران ملک کے متعدد سیاست دانوں، ادیبوں اور دانش وروں نے سیاسی اور ثقافتی فورمز کے ذریعے سیاسی، اقتصادی اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ مذکورہ نوعیت کی سیکڑوں شخصیتوں کے دستخط شدہ ایک سے زیادہ بیانات کے ذریعے ملک میں سیاسی اور فکری اصلاح اور تبدیلی کے علاوہ نافذ العمل ہنگامی حالت ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

ان فورمز کے بننے کے بعد دو سال سے بھی کم عرصے میں بشار الاسد نے ان سرگرمیوں کو سبوتاژ کر دیا اور ان میں سرگرم چیدہ شخصیات کو گرفتار کر لیا گیا۔

بشار الاسد کی حکم رانی اس حوالے سے امتیاز رکھتی ہے کہ اس کی ابتدا میں ہی آئینی اور سیاسی اصلاحات اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مطالبات کی تمام صورتوں کو کچل دیا گیا۔

یاد رہے کہ 2005ء میں بشار الاسد کی حکومت ایک نئے گرداب میں پھنسی نظر آئی جب اس کی حلیف لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد میں ملوث ہے۔ حریری کی ہلاکت میں بشار الاسد کا ہاتھ ہونے کے الزام کے سبب پورے لبنان میں عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ اس کا نتیجہ اپریل 2005ء میں شامی فوج کو لبنانی اراضی سے نکل جانے پر مجبور کر دیے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔

بشار الاسد نے 2005ء سے 2011ء کے دوران اصلاح اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤں کی پالیسی اپنائی۔ اس کے بعد بشار کی حکومت کے خلاف شامی انقلابی تحریک نے جنم لیا۔

انقلابی تحریک میں شامی عوام کی جانب سے بشار کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا جس پر اس آمر نے شہروں میں عوامی مظاہروں کو کچلنے کے واسطے مسلح افواج اور ٹینکوں کو داخل کر دیا۔ شامی انتفاضہ تحریک کے تیسرے روز 18 مارچ 2011ء کو درعا شہر میں عوام کی بیداری مہم کے پہلے شہید کی لاش زمین پر گری۔

بشار الاسد نے اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے بھرپور طریقے سے عسکری طاقت کا سہارا لیا اور شام کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ و برباد کر ڈالا۔ اس دوران ملک کی معیشت کو پہنچنے والا نقصان 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

عوامی انقلابی تحریک کو ختم کرنے کے لیے بشار کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں دس لاکھ کے قریب شامی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 1.2 کروڑ شہری بے گھر ہو کر اندرون اور بیرون ملک پناہ گزین بن گئے۔ اس دوران بشار حکومت کے تقریبا 2.5 مخالفین کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا۔ ان میں بہت سے افراد جبری طور پر لاپتہ ہو چکے ہیں اور بشار حکومت ان کی گرفتاری یا ہلاکت کا اقرار بھی نہیں کرتی ہے۔