.

شام : جنوبی صوبے القنیطرہ میں فضائی حملوں میں سات شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوب مغربی صوبے القنیطرہ میں منگل کے روز فضائی حملوں میں سات شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔القنیطرہ کی سرحد اسرائیل کے زیر قبضہ شامی علاقے گولان کی چوٹیوں سے ملتی ہے اور اس لحاظ سے اس کو ایک حساس صوبہ قرار دیا جاتا ہے۔

شامی فوج اتوار کی صبح سے القنیطرہ میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر توپ خانے سے تباہ کن بمباری کررہی ہے اور اس نے منگل کو پہلی مرتبہ لڑاکا طیاروں کو باغیوں کے خلاف استعمال کیا۔

شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ القنیطرہ اور صوبہ درعا کے درمیان واقع سرحدی علاقے عین الطینا کے نزدیک فضائی حملوں میں دو عورتوں اور تین بچوں سمیت چھے شہری ہلاک ہوگئے ہیں ۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ حملے شامی فضائیہ نے کیے ہیں یا روس کے لڑاکا طیاروں نے کیے ہیں۔

اسی صوبے کے مغرب میں درعا سے متصل واقع ایک اور علاقے العلیا میں روسی طیارے کے حملے میں ایک شہری مارا گیا ہے۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ ’’ منگل کی صبح سے روس کے لڑاکا طیارے القنیطرہ اور درعا کے درمیان واقع علاقے میں تباہ کن بمباری کررہے ہیں اور شامی طیاروں نے ان علاقوں میں بیرل بم بھی برسائے ہیں ‘‘۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اس علاقے میں ہیئت تحریرالشام کے جنگجو موجود ہیں۔

اس گروپ کے جہادی درعا میں گذشتہ ماہ شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی میں شامل نہیں ہیں۔اس سمجھوتے کے نتیجے میں شامی حکومت کا درعا کے 90 فی صد سے زیادہ علاقے پر دوبارہ کنٹرول ہوچکا ہے۔

القنیطرہ میں واقع پانچ قصبوں میں موجود باغیوں نے بھی سوموار کو قومی پرچم لہرا دیے ہیں اور وہ بھی حکومت کے ساتھ درعا ہی کی طرح کا کوئی سمجھوتا چاہتے ہیں۔رامی عبدالرحمان کے بہ قول باغی دھڑوں نے ان قصبوں میں لڑائی روک دی ہے اور وہ بمباری اور تباہی سے بچنا چاہتے ہیں۔

ان دونوں صوبوں میں گذشتہ دو روز میں باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی میں اسد نواز 43 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 48 جہادی اور باغی جنگجو بھی مارے گئے ہیں ۔ یادرہے کہ شام میں مارچ 2011ء میں پُرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف اسد حکومت کے سفاکانہ کریک ڈاؤن سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔